اسلام آباد، 23 جون (پی پی آئی): خیرپور میں وڈا ماچو پولیس اسٹیشن کے قریب پیر کے روز ایک قبائلی جھگڑے میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، جس سے جاگیرانی قبیلے کے دو دھڑوں کے درمیان دیرینہ دشمنی پھر سے بھڑک اٹھی۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت زبیر، ثناء اللہ اور یاسین کے نام سے ہوئی ہے۔
فائرنگ اور چیخ و پکار کے اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ہلاک شدگان کی خواتین کے دردناک نوحے پورے علاقے میں گونجتے رہے جب وہ اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے پیارے چلے گئے؛ خونریزی نے امن کا راستہ روک دیا ہے۔”
مقامی باشندوں نے انکشاف کیا کہ یہ سانحہ دو ماہ قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے، جہاں اسی قبیلے کے ایک لڑکے اور لڑکی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا تھا۔
عوام کا غصہ حکام کے سست ردعمل اور بے عملی پر پھوٹ پڑا۔ متاثرہ خاندانوں نے خیرپور سول ہسپتال کے باہر لاشوں کے ساتھ مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی کہ “نہ قانون نافذ کرنے والے، نہ طبی عملہ، نہ پوسٹ مارٹم، نہ انصاف!”
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے خیرپور سول ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن نہ تو طبی ماہرین موجود تھے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے افسران۔ سوگوار رشتہ داروں نے زبردست احتجاج کیا اور مجرموں کی فوری گرفتاری اور اپنے لیے مکمل تحفظ کا مطالبہ کیا۔
پورے علاقے میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے
