پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایران میں حکومتی تبدیلی اسرائیل کا ھدف ؛لیکن ناکام رہا: سابق صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد 25 جون(پی پی آئی)آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے باوجود وہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے جو جنگ سے قبل طے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا ایک مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا جو تاحال ممکن نہیں ہو سکا، جبکہ دیگر مقاصد میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا، اس کی جوہری صلاحیت محدود کرنا اور میزائل ذخائر کو تباہ کرنا شامل تھے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد نافذ سیزفائر کے دوران ان تمام امور کا تجزیہ جاری ہے کہ کون فریق کتنا کامیاب ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسرائیل اپنے بعض محدود فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہوگا، تاہم مجموعی طور پر وہ غزہ کی صورت حال سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں زیادہ کامیاب رہا ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدور کا دیگر ممالک کے فوجی سربراہان سے براہِ راست ملاقات کرنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس ملاقات نے پاکستان کی سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاک-بھارت جنگ بندی کی صورت حال سامنے آئی ہے اور امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کا مثبت انداز میں ذکر کیا اور مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر تسلیم کیا، جو بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ ۔سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی تشویش اس وقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکا اور بھارت کے تعلقات مضبوط تھے، مگر حالیہ تبدیلیوں نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔