آرٹس کونسل میں’ دیرینہ دوست اور دوستی مشاعرہ’ منعقد کیا گیا

کراچی 12 جولائی (پی پی آئی)) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی -فکشن کے زیر اہتمام امریکا سے تشریف لائے معروف صحافی و شاعر راشد نور کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دیرینہ دوست اور دوستی مشاعرے کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیاگیا جس میں آرٹس کونسل ادبی کمیٹی ۔ فکشن کے چیئرمین اخلاق احمد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، مشاعرے کی صدارت شہاب الدین شہاب نے کی، اظہار خیال کرنے والوں میں ادبی کمیٹی شعر و سخن کی چیئرپرسن عنبرین حسیب عنبر، ریحانہ راشد، عقیل عباس جعفری ،ریحانہ روحی، رحمن نشاط، اختر سعیدی اور زاہد حسین جوہری شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام دیے، معروف صحافی و شاعر اختر سعیدی نے اپنے انوکھے اندازِ میں راشد نور پر منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ، اس موقع پر شہاب الدین شہاب نے صدارتی خطبہ میں کہاکہ آج میں خود کو لڑکپن کے دور میں محسوس کررہا ہوں، میں اور راشد نور بدایوں کے داماد ہیں، ہم نے اپنے استادوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، راشد نور کی شاعری رمزیہ ہوتی ہے، جو شعر تہہ دار ہوتا ہے اس کی پرتیں تادیر کھلتی رہتی ہیں ، ان کی شاعری میں عارضیت اور فوری داد کی طلب نہیں ، امید ہے۔ آرٹس کونسل ادبی کمیٹی ۔ فکشن کے چیئرمین اخلاق احمد نے کہاکہ راشد نور نے صحافت کرکے اپنا گھر چلایا، انہوں نے خود مشکلیں برداشت کرکے کبھی کسی کو دُکھ تکلیف نہیں پہنچائی ، راشد نور امریکا نہیں بلکہ ہمیشہ ہمارے درمیان ہیں۔ ادبی کمیٹی شعر و سخن کی چیئرپرسن عنبریں حسیب عنبر نے کہاکہ راشد نور جب بھی پاکستان آتے ہیں تو کراچی کی پرانی ادبی فضا بھی ساتھ لے آتے ہیں ان کی رہنمائی اور صلاح ہمیشہ میرے ساتھ رہی، صحافتی شعبے میں راشد نور اور اختر سعیدی نے ادبی رپورٹنگ میں ادب کا خاص خیال رکھا، ریحانہ راشد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ ایک شاعر کے لیے اتنی پذیدائی ملنا سب سے بڑی دولت ہوتی ہے، ان کی شاعری میں بہت حساسیت ہے، مجھے ان کے خاندان کا حصہ ہونے پر فخر ہے، عقیل عباس جعفری نے کہاکہ راشد نور صحافت کے شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود اشعار کہتے رہے، مجھے لگتا ہے اب ان کا شعری مجموعہ منظر عام پر آجانا چاہیے، زاہد حسین جوہری نے کہاکہ راشد نور آج بھی اپنی تہذیب ، ثقافت اور فن سے جڑئے ہوئے ہیں، وائس چیر پرسن ادبی کمیٹی فکشن ریحانہ روحی نے کہاکہ راشد نور کی اس شہر سے محبتیں کئی سالوں پر محیط ہے، میں صدر آرٹس کونسل کی شکر گزار ہوں جو تمام آرٹسٹوں کو جوڑے ہوئے رکھتے ہیں، جو لوگ کام کرتے ہیں احمد شاہ ان کو پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں، معروف صحافی اور شاعر نے کہاکہ آج میری زندگی کا پورا دور لوٹ آیا ہے، آج کا ادبی منظر نامہ دیکھ کر عجیب سا احساس ہوتا ہے، جو دور گزر گیا وہ بہت یاد گار ہے، سلیم احمداور قمر جمیل کے ساتھ ہماری تربیت ہوئی، احمد جاوید ہماری پوری نظم اور غزل کٹوا دیتے تھے، اس شہر کا منظر نامہ اتنا وقیع اور وزن دار ہے جو ہمیشہ رہے گا ، ہمارے اکابرین کی وجہ سے اس شہر کی رونقیں قائم ہیں، ان یادوں کو تازہ رکھنا چاہیے، فیض احمد فیض اس شہر اور ملک کا روشن باب ہیں، میں پاکستان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا، پاکستان کا ادبی منظر نامہ بہت بڑا ہے، امریکا میں پاکستانی شعراءاپنی شاعری لے کر گئے، حمیرا رحمن، صبیحہ صبا، مجید اختر، عارف امام کا بہت کام ہے، عشرت آفرین بہت معروف شاعرہ ہیں۔
کراچی، 12 جولائی 2025 (پی پی آئی): آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے حال ہی میں امریکہ سے واپس آنے والے ممتاز صحافی اور شاعر رشید نور کے اعزاز میں “دیرینہ دوست اور دوستی مشاعرہ” کا اہتمام کیا۔ حسیبہ معین ہال میں منعقدہ اس تقریب کا اہتمام کونسل کی ادبی کمیٹی فکشن نے کیا، جس میں نمایاں ادبی شخصیات نے نور کی خدمات کو سراہا۔ادبی کمیٹی فکشن کے چیئرمین اخلاق احمد مہمان خصوصی تھے جبکہ شہاب الدین شہاب نے صدارت کی۔ متعدد شعراء اور ادیبوں نے شرکت کی جن میں امبرین حسیب عنبر (چیئرپرسن ادبی کمیٹی شاعری و نثر)،ریحانہ رشید، عقیل عباس جعفری، ریحانہ روحی، رحمٰن نشاط، اختر سعیدی اور زاہد حسین جعفری شامل تھے۔ خالد معین نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔ اختر سعیدی، جو خود ایک معروف صحافی اور شاعر ہیں، نے نور کے لیے ایک خاص نظم پیش کی۔شہاب الدین شہاب نے اپنے خطاب میں نور کے ساتھ گزرے ابتدائی ایام کو یاد کیا اور ان کی گہری اور بامعنی علامتی شاعری کو سراہا۔ اخلاق احمد نے نور کی صحافتی ایمانداری اور اصولوں کی تعریف کی اور مشکلات کے باوجود ان کے ثابت قدم رہنے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک قیام کے باوجود نور ہمارے دلوں میں موجود ہیں۔امبرین حسیب عنبر نے نور کے کراچی کی ادبی تاریخ کو اپنے دوروں کے دوران زندہ کرنے کی صلاحیت کی تعریف کی اور ان کی اور اختر سعیدی کی ادبی رپورٹنگ کے کام کو سراہا۔ ریحانہ رشید نے نور کی شاعری میں موجود حساسیت پر فخریہ الفاظ کہے۔ عقیل عباس جعفری نے نور کی مجموعی تخلیقات کی اشاعت کی وکالت کی۔ زاہد حسین جعفری نے نور کے اپنے ثقافتی ورثے سے لگاو کو تسلیم کیا۔ ریحانہ روحی نے فنکاروں کی حمایت پر آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کراچی کے لیے نور کی محبت کو سراہا۔رشید نور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شکر گزاری کا اظہار کیا اور اپنی زندگی کے سفر اور کراچی کے ادبی منظر نامے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سلیم احمد اور قمر جمیل جیسے استادوں سے سیکھنے اور احمد جاوید کی سخت تدوین کو یاد کیا۔ انہوں نے فیض احمد فیض جیسے ماضی کے روشن ستاروں کا ذکر کرتے ہوئے شہر کی ادبی روایت کا جشن منایا۔ انہوں نے پاکستان اور اس کی ادبی برادری سے اپنی محبت کا اعادہ کیا اور امریکہ میں پاکستانی شعراء حمیرہ رحمٰن، صبیحہ صبا، مجید اختر، عارف امام اور عشرت آفرین کے کارناموں کو سراہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

35ویں قومی کھیلوں کی میزبانی سندھ کرے گا

Sat Jul 12 , 2025
کراچی، 12 جولائی 2025 (پی پی آئی): سندھ کا محکمہ کھیل ،35ویں قومی کھیلوں، پہلے قومی یوتھ گیمز، تیسرے ایشین یوتھ گیمز اور چوتھے یوتھ اولمپک گیمز سمیت کئی مقابلوں میں شرکت کی تیاری کر رہا ہے۔ سندھ سیکرٹریٹ میں وزیرِ کھیل و نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی صدارت […]