کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ائٹ صنعتی ایریا کے صنعتکاروں نے کراچی چیمبر کی ہڑتال کی حمایت کردی

کراچی، 15 جولائی 2025 (پی پی آئی): سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر احمد عظیم علوی نے 19 جولائی کو کراچی کے سب سے بڑے صنعتی علاقے سائٹ میں بھی صنعتیں بند کرنے کی حمایت کی ہے۔ علوی کی جانب سے یہ سخت ردِ عمل کراچی چیمبر اور ملک بھر کے دیگر چیمبرز کی جانب سے ہڑتال کی کال کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے برآمدات میں ممکنہ تاخیر اور ملازمتوں کے نقصان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دی ہے۔علوی نے ان قوانین پر تنقید کی جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کو شک کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کو گرفتار کرنے اور مقدمات درج کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اس طریقہ کار کا موازنہ بین الاقوامی طریقہ کار سے کیا جہاں ٹیکس میں چھوٹ اور مراعات دی جاتی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے عزائم پر سوال اٹھاتے ہوئے تجویز پیش کی کہ کاروبار کو بند کرنے پر مجبور کر کے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علوی نے کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے سائٹ کے خدشات سے آگاہ کیا اور چیمبر کے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے ای فائلنگ اور ای بلٹی کے نفاذ پر بھی تنقید کی جس سے کاروبار پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ علوی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کا مقصد کمپنیوں کو بند کرنے یا پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے؟ انہوں نے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ دھمکانے کے بجائے سہولت کاری کو ترجیح دے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایف بی آر نے ان اقدامات کے نفاذ سے پہلے کافی آگاہی مہم چلائی تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین سے صرف 22,000 ایف بی آر کے عملے کو فائدہ ہوگا جبکہ کاروبار، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔علوی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ وہ ان ضابطوں کو منسوخ کریں اور ذمہ داران کا احتساب کریں۔ انہوں نے کاروباری عمل کو آسان بنانے اور ٹیکس محصولات کو قومی خزانے تک پہنچانے کی وکالت کی۔ انہوں نے ٹیکس ادا کرنے کی رضامندی ظاہر کی لیکن ساتھ ہی احترام سے پیش آنے کا مطالبہ کیا۔ علوی نے وزیرِ اعظم سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ ایف بی آر کے قانون سازی کے عمل میں پاکستان کے تمام چیمبرز کے صدور کو شامل کریں۔