چوہدری کا صحافیوں سے پاکستان کی بلیو اکانومی اور ماحولیاتی خطرات کو اجاگر کرنے پر زو

اسلام آباد , 07 اگست، 2025: (پی پی آ ئی) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بندرگاہی شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی رپورٹنگ سے ہٹ کر پاکستان کے بحری مستقبل سے متعلق اہم مسائل پر توجہ دیں، خصوصاً ایسی بلیو اکانومی کی ضرورت کو اجاگر کریں جو ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

سندھ پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے 30 رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے سمندر کی سطح میں اضافہ، ساحلی کٹاؤ، اور شدید موسمی تبدیلیوں جیسے خطرات کا ذکر کیا جن سے کراچی اور دیگر ساحلی علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میڈیا کی حکمت عملی میں تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے تاکہ ان مسائل کے حل کو اجاگر کیا جا سکے اور ان کے ساتھ جڑے معاشی و ماحولیاتی پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

اکرم بلوچ اور سینئر رپورٹر طاہر صدیقی کی قیادت میں آئے وفد نے وفاقی دارالحکومت کے مطالعاتی دورے کے دوران وزارت بحری امور کا دورہ کیا جہاں وزیر موصوف نے انہیں حکومت کے طویل المدتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ ان منصوبوں کا مقصد پاکستان کے ساحلی شہروں کو پائیدار ترقی کے بین الاقوامی ماڈل میں تبدیل کرنا ہے۔

جوناid چوہدری نے کہا کہ بلیو اکانومی صرف جہازرانی یا تجارت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں آبی زراعت، مینگرووز کا تحفظ، اور چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کو بااختیار بنانا شامل ہے۔ یہ شعبے جو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں، ملکی معیشت اور ماحولیاتی توازن کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ بندرگاہوں اور کارگو رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر ان ماہی گیر برادریوں، ساحلی آبادیوں اور مزدور طبقے کی کہانیاں سامنے لائیں جو ملکی بحری معیشت کا اصل چہرہ ہیں۔ انسانی پہلو پر مبنی ایسی رپورٹنگ نہ صرف عوامی آگاہی بڑھاتی ہے بلکہ پالیسی سازی اور عالمی تعاون کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔

وزیر بحری امور نے حکومت کی مختلف کوششوں کا ذکر بھی کیا جن میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر آبی زراعت کے منصوبوں کی توسیع، ماہی گیری کے جہازوں کی جدید کاری، اور مینگرووز کے بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی مہم شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مینگروو جنگلات دنیا کے بڑے مینگروو جنگلات میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف طوفانوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ کاربن جذب کرتے ہیں اور آبی حیات کو سہارا دیتے ہیں جو ماہی گیری کی صنعت کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وزارت بحری امور صحافیوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز کا آغاز کرے گی تاکہ وہ بحری امور پر زیادہ مؤثر اور معلوماتی رپورٹنگ کر سکیں۔

وفد نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے بحری شعبے سے متعلق ڈیٹا تک بہتر رسائی اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ممکن ہوگا۔

وزیر موصوف کی اس کاوش سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ بندرگاہی شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافی اقتصادی مواقع اور ماحولیاتی تقاضوں کے درمیان ایک موثر رابطہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور آئی جی پولیس سندھ کا بڑھتے ہوئے جرائم کے تناظر میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور

Fri Aug 8 , 2025
کراچی، 8 اگست 2025 (پی پی آئی): وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور ڈاکٹر لال چند اوکرانی نے آج کراچی میں انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سندھ ڈاکٹر غلام نبی میمن سے ملاقات کی تاکہ صوبے میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے خدشات دور کیے […]