کراچی، 30-ستمبر-2025 (پی پی آئی): کرنسی ایکسچینج مارکیٹ میں آج نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں غیر معمولی سطح پر پہنچ گیا، جس سے تاجروں اور تجزیہ کاروں میں یکساں طور پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق، امریکی ڈالر 281.92 اور 282.35 کے درمیان رہا، جو ایک نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے جس نے مالیاتی حلقوں میں کافی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہ ممکنہ طور پر درآمدی اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یورو (EUR) میں بھی کافی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اعداد و شمار 330.48 اور 333.60 کے درمیان ریکارڈ کیے گئے۔ اسی طرح، برطانوی پاؤنڈ (GBP) کا کاروبار 378.91 اور 382.67 کے درمیان ہوا، جس نے مارکیٹ کی غیر متوقع نوعیت میں مزید اضافہ کیا۔
دیگر غیر ملکی کرنسیاں بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ جاپانی ین (JPY) کی قدر 1.88 سے 1.92 کے درمیان رہی، جبکہ متحدہ عرب امارات درہم (AED) اور سعودی ریال (SR) میں بالترتیب 76.88 سے 77.65 اور 75.08 سے 75.73 کے درمیان اتار چڑھاؤ رہا۔
انٹربینک میں امریکی ڈالر کے نرخ قدرے کم تھے، جو 281.31 اور 281.51 کے درمیان نوٹ کیے گئے، تاہم وہ کرنسی کے عدم استحکام کے وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جس نے آج مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
