اسلام آباد، 2 اکتوبر 2025 (پی پی آئی): وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد کی بھاری اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے، جس سے صارفین کے لیے پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ نیا ٹیرف تمام موجودہ ٹیکسز کے علاوہ لاگو ہوگا۔ یہ 40 فیصد لیوی 30 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ اس مدت کے بعد، حکومت جولائی 2026 سے سالانہ 10 فیصد کی کمی کے ساتھ اسے بتدریج ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد 30 جون 2029 تک اس اضافی ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
یہ نیا مالیاتی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت پہلے ہی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دے چکی ہے۔ وزارت تجارت نے ان درآمدات کی منظوری کا ایک علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر مالی سال 2026 کے اختتام تک صرف پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی۔ اس تاریخ کے بعد درآمد شدہ کاروں پر عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔
اس پالیسی تبدیلی کو ممکن بنانے کے لیے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ضروری ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ ان گاڑیوں کو درآمد کرنے کی اجازت ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد سے مشروط ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ درآمد شدہ گاڑیاں قومی ضوابط پر پورا اترتی ہیں۔
بھاری ڈیوٹی متعارف کرانے کا یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی حالیہ منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے 24 ستمبر 2025 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی تجویز کی توثیق کی تھی۔
