ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جو افغانی اپنے وطن چلے گئے ان کی املاک حکومت اپنی تحویل میں لے :عوامی نیشنل پارٹی

کراچی15 اکتوبر (پی پی آ ٓئی)عوامی نیشنل پارٹی کراچی ایسٹ کے نائب صدر لالہ سعید خان نے کہا ہے کہ افغان کیمپ سے جو افغانی اپنی وطن افغانستان چلے گئے ان کے گھر کو حکومت سندھ اپنی تحویل میں لے کیونکہ قبضہ مافیا سرگرم ہے اور پورے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بدھ کو جاری ایک بیان میں، اے این پی کراچی ایسٹ کے نائب صدر لالا سعید خان نے افغان کیمپ کے علاقے میں چھوڑے گئے گھروں پر وسیع پیمانے پر قبضے کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت پشتونوں کی جائیدادوں پر قبضہ نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے ان گروہوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خان نے سندھ پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مہاجرین کی وطن واپسی کے پروگرام کی آڑ میں شہر میں مقیم پشتون افغان باشندوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے اس مبینہ ناروا سلوک کو “ناقابل برداشت” قرار دیا، جس میں ان کے بقول قانونی طور پر مقیم افغانوں سے بھتہ خوری بھی شامل ہے۔

اے این پی عہدیدار نے بتایا کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو مبینہ طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے “قانونی دستاویزات رکھنے والے افغانوں کو بلاجواز غیر قانونی قرار دے کر ان کی تذلیل” کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

غیر دستاویزی افغان باشندوں کی واپسی سے متعلق حکومتی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے، خان نے واضح کیا کہ اس آڑ میں قانونی افغان شہریوں کے ساتھ کی جانے والی کوئی بھی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خان نے صوبائی حکومت سے سندھ پولیس کے “غیر انسانی رویے” کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکمران جماعت کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو کراچی اور صوبے میں مزید عدم استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں۔