میرپور خاص: 7 دسمبر 2025(پی پی آئی)جمڑاؤ کینال میں ڈوبنے والے 12 سالہ انس قریشی کی نعش مسلسل تیسرے روز بھی برآمد نہ ہوسکی، جس کے باعث اہلخانہ اور شہریوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ابھی تک بچے کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
تفصیلات کے مطابق تین روز قبل جمڑاؤ کینال میں ڈوبنے کے واقعے میں انس قریشی اور 23 سالہ طلحہ جاں بحق ہوگئے تھے، تاہم ریسکیو 1122 کی کشتیوں اور مسلسل سرچ آپریشن کے باوجود کم سن بچے کی لاش نہ مل سکی۔ ریسکیو اہلکار دن کے اوقات میں کئی کئی گھنٹوں تک تلاش میں مصروف ہیں۔
واقعے کے وقت دونوں افراد اپنے گھر والوں کے ساتھ درگاہ معصوم شاہ جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق دونوں اموات کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی اور 23 سالہ طلحہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔
لاش کی تلاش میں ناکامی اور انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث متاثرہ خاندان اور علاقہ مکینوں نے جمڑاؤ اسٹاپ کے قریب حیدرآباد مین روڈ کو بند کر کے احتجاج کیا، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
دوسری جانب یوسی دولت لغاری کے وائس چیئرمین قادر بخش لغاری اور کونسلر ظفیل راجپوت مقامی غوطہ خوروں کے ساتھ تین دن سے دن رات تلاش میں مصروف ہیں، تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
علاقہ مکینوں نے انتظامیہ سے فوری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی نعش برآمد نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
