حیدر آباد، 16 دسمبر 2025 (پی پی آئی): جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ، ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی موجودہ “سنگین صورتحال” سے نمٹنے کے لیے 1971 کے سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھنا ہوگا، اور طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کی وکالت کی ہے۔
اپنے بیان میں منگل کے روز ، جمعیت علمائے پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ نے ایک تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے اپنے مرحوم قائد، علامہ شاہ احمد نورانی (رح) کے اس مشورے کا حوالہ دیا جو انہوں نے اس وقت کی فوجی حکومت کو دیا تھا۔
زبیر نے بتایا کہ نورانی نے اس وقت کے حکمران یحییٰ خان کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
اس کے بجائے، مرحوم قائد نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ عوام کی شکایات کو دور کرے اور انہیں ان کے جمہوری حقوق دے، لیکن اس رہنمائی کو بدقسمتی سے نظر انداز کر دیا گیا، جس کا نتیجہ ملک کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلا۔
موجودہ چیلنجز سے موازنہ کرتے ہوئے، زبیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے موجودہ “پیچیدہ اور سنگین مسائل” کا حل بھی اسی اصول میں مضمر ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر قومی مسئلے کو جبر کا سہارا لینے کے بجائے مذاکرات اور آئینی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
