ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

یہ وہ پاکستان نہیں رہا جس کے فیصلے باہر ہوں،اب فیصلے عوام کریں گے: اسد عمر

جھنگ(پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں رہاجس کے فیصلے ملک سے باہر ہوں، یہاں کے عوام ہی اس کے فیصلے بھی کرینگے۔ جھنگ میں دربار شریف پر میڈیا سے اہم ترین گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اس ملک میں نہ عورتوں کا لحاظ کیا جارہا ہے اور نہ ہی گھر کی چار دیواری کا، 75 سال کا سینیٹر بھی برہنہ غنڈا گردی سے بچاہوانہیں ہے۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ اب یہ وہ پاکستان نہیں رہیگا جہاں پاکستان کی عوام کے فیصلے بند کمروں میں ڈیلوں کی بنیاد اور طاقت کے لین دین پر کئے جائیں گے کیونکہ یہ وہ پاکستان بننے جارہا ہے جس کے فیصلے کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، شور کوٹ اور جھنگ میں کئے جائینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان پر جب منظم سازش کے تحت قاتلانہ حملہ ہوا تو میں نے اس وقت بھی یہ کہا تھا کہ اللہ نے ابھی ہمارے کپتان سے بہت بڑے بڑے کام لینے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ اس ملک پر اللہ کا کرم رہا ہے جو کہ اس کی دین ہے، اس نے ہمیشہ قائم رہنا ہے لیکن اس حقیقی طور پر آزاد پاکستان کے لئے جو قربانی چاہیئے اپنے کپتان کی لیڈر شپ کے اندر اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا ہے اور کپتان کی کال پر اسلام آ باد بھی پہنچے گے۔ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا واضح مؤقف ہے کہ میرٹ پر تعیناتی کی جائے کیونکہ کپتان غلط کام نہیں کرتا ہے اور اس کے لئے اسے اپنا بندہ لانے کی خواہش بھی نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کمپنی کے فیصلے نہیں ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، اس کی عوام کے فیصلے لندن میں بیٹھ کر لئے جارہے ہیں اور وہ بھی اس شخص کے مشورے سے جو کہ خود قانون کا سزا یافتہ مجرم ہے جو کہ 22 کروڑ عوام کی غیرت کا مذاق اڑانے کے برابر ہے۔