ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خیرپور میں پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے :سردار چنگیز ساسولی

خیرپور، 11 مارچ 2026 (پی پی آئی)ساسولی قبیلے کے سربراہ سردار چنگیز خان ساسولی نے پولیس کے ہاتھوں ایک قبائلی شخص کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کی ہے، اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج کا حوالہ دیا ہے جس میں مبینہ طور پر اس شخص کو زندہ حراست میں لیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد اس کی پولیس “مقابلے” میں ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

ساسولی قبیلے کے سربراہ سردار چنگیز خان ساسولی نے مقتول کی شناخت نور محمد ساسولی کے نام سے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ نور محمد ساسولی اور ایک دوسرے شخص ارشاد میرانی کو سندھ کے شہر خیرپور میں ببرلوئی بائی پاس پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔

بعد ازاں، دعویٰ کیا گیا کہ دونوں افراد اکنامک زون تھانے کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارے گئے۔

قبائلی سردار نے سرکاری بیانیے میں واضح تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے پولیس کے مؤقف پر سوال اٹھایا۔ سردار ساسولی نے سوال کیا کہ “اگر افراد پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے، تو پھر مقابلہ کیسے ہوا؟”، انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے اس صورتحال کو “سراسر ناانصافی اور قانون کا مذاق” قرار دیا۔

نتیجتاً، سردار ساسولی نے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک عدالتی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مبینہ قتل میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔