اسلام آباد، 12 اپریل 2026 (پی پی آئی): امریکہ نے پاکستانی دارالحکومت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے اختتام پر ایران کو ایک “حتمی تجویز” پیش کی ہے، جس میں تہران سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی “مضبوط یقین دہانی” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آج صبح کی بریفنگ میں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے مذاکرات کو آسان بنانے میں “غیر معمولی کردار” ادا کیا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی بات چیت کی “شاندار میزبانی” پر تعریف کی۔
نائب صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات کے دوران پیش آنے والی کسی بھی خامی کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے۔
مسٹر وینس نے کہا، “ہم ایران کے لیے ایک بہترین، سادہ اور حتمی تجویز چھوڑ رہے ہیں، اور اب ہم دیکھیں گے کہ ایران اس تجویز کو قبول کرتا ہے یا نہیں،” انہوں نے واضح کیا کہ حتمی معاہدے کا انحصار اسی کلیدی شرط پر ہے۔
دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ اس کے وفد نے “کھلے ذہن” کے ساتھ کارروائی میں حصہ لیا۔
سوشل میڈیا پر ایک الگ پیغام میں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے مذاکرات کو “جامع” قرار دیا، لیکن مزید کہا کہ بات چیت کی حتمی کامیابی “دوسرے فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر منحصر ہے۔”
