پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی، 3-جون-2026 (پی پی آئی):

کراچی میں سنٹرل پولیس آفس میں آج منعقدہ ایک اہم اجلاس نے سندھ میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا ہے۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی صدارت میں ہونے والے جائزہ اجلاس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے شعبے (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی اور صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔

اس اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز اور دیگر متعلقہ افسران سمیت اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی، جس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں شعبے کی مجموعی کارکردگی، حساس انٹیلی جنس، انسدادی حکمت عملی، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔

پچھلے سالوں کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کا سہرا بہترین انٹیلی جنس رپورٹنگ اور بروقت کارروائی کو دیا جاتا ہے۔ شرکاء نے سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، اور صوبے بھر میں دہشت گردی کے کیسز میں نمایاں کمی کا نوٹ لیا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے دہشت گردی کے خلاف سی ٹی ڈی کی مؤثر کارروائیوں کی تعریف کی اور ان آپریشنز کو بلا تعطل جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کالعدم گروہوں، مجرمانہ نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مخصوص اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو تیز کرنے کی تاکید کی۔

مزید برآں، آئی جی سندھ نے سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کالعدم تنظیموں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ انسدادی حکمت عملیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائیوں کو وسیع کرنے کی بھی اپیل کی جو عوام میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں اور آن لائن دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اجلاس کا اختتام انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی رفتار کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا، تاکہ صوبے کے شہریوں کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔