پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارت مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال کے بارے میں دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے:غلام احمد گلزار

سری نگر(پی پی آ ئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طو رپر نظر بند سینئر رہنما غلام احمد گلزار نے کہا ہے کہ بھارت خطے کی زمینی صورتحال کے بارے میں دنیا کو گمراہ کرنے اور بھارتی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق غلام احمد گلزار کا یہ بیان بھارتی فوج کے شمالی زون کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کی سکیورٹی میں واضح بہتری آئی ہے۔غلام احمد گلزار نے سینٹرل جیل سری نگر سے ایک خصوصی پیغام میں کہا کہ میں حالات معمول پر آنے کا بیان خود فریبی اور صریح جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں حالات معمول پر آ گئے ہیں تو بھارت نے اسے فوجی چھاؤنی میں کیوں تبدیل کر رکھا ہے۔ اگر بھارت کے دعوے درست ہیں تو اسے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو کشمیر کا دورہ کرنے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے علاقے میں اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے انسانی حقوق کے درجنوں محافظوں اور صحافیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔غلام احمد گلزارنے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اقدام انتہائی تکلیف ہے کیونکہ کشمیریوں کو تمام سیاسی، معاشری اور مذہبی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست2019کا یہ اقدام کشمیر کی منفرد شناخت اور کشمیری ثقافت پر بدترین حملہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2029 سے اب تک 80 ہزار سے زائد کشمیری مسلسل حراست میں ہیں، پہلے سے ہی تباہ حال معیشت مزید تباہ ہوگئی ہے اور ہزاروں کشمیری اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔