کوئٹہ(پی پی آئی)بلوچستان ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف بجلی روڈ تھانہ میں درج ایف آئی آر خارج کردی ہے اور وارنٹ گرفتاری بھی معطل کر دیئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس گل حسن ترین نے درخواست پر فیصلہ سنایا،جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری بھی معطل کر دیئے۔پی پی آئی کے مطابق اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے پر چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف مقدمہ درج کیاگیا تھا اور چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے تھے۔
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،مخدوم شاہ محمود قریشی
اسلام آباد (پی پی آئی)تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،یہ قانون کی ناانصافی اور حق تلفی کررہے ہیں،اللہ کا انصاف میرے ساتھ، اپنی جگہ قائم ہوں۔پی پی آئی کے مطابق سائفر کیس میں پیشی کے موقع پر عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ایف آئی اے کے پاس مزید ریمانڈ لینے کا کوئی جواز نہیں،میں مکمل تعاون کررہا ہوں یہ کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے،پی پی آئی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،یہ قانون کی ناانصافی اور حق تلفی کررہیہیں،اللہ کا انصاف میرے ساتھ، اپنی جگہ قائم ہوں۔
شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس میں مزید2روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد (پی پی آئی)تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کاسائفر کیس میں مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔پی پی آئی کے مطابقسیکریٹ ایکٹ عدالت نے سائفر کیس میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو مزید دو روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس کی سماعت کی جس دوران شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کیا گیا، ایف آئی اے کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی عدالت نے وکیل صفائی بابراعوان کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کہ کچھ ہی دیر کے بعد سنا دیا گیا، عدالت نے شاہ محمود قریشی کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔دوران سماعت وکیل صفائی بابراعوان نے ایف آئی اے کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی،وکیل صفائی بابراعوان نے سیکریٹ ایکٹ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مختلف اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،آرٹیکل 90،91 کے تحت شاہ محمود قریشی کا سائفر سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وکیل صفائی بابراعوان نے آئین کے آرٹیکل 90 اور 91 کو سیکریٹ ایکٹ عدالت میں پڑھا،انہوں نے کہا کہ 9 دنوں سے شاہ محمود قریشی جسمانی ریمانڈ پر ہیں،وکیل صفائی بابراعوان نے کہا شاہ محمود قریشی کا پہلے ہی کافی ریمانڈ دیا جا چکا ہے۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے شاہ محمود قریشی کا موبائل برآمد کرنے کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ کیخلاف کراچی میں سرکاری ملازم بھی پریس کلب پرسراپا احتجاج
کراچی (پی پی آئی)بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،کراچی میں بھی بجلی کے نرخوں اور ٹیکسز میں اضافے کیخلاف سرکاری ملازمین نے پریس کلب پراحتجاج کیا، مظاہرین نے بلوں میں اضافے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔پی پی آئی کے مطابق مظاہرین کاکہناتھا کہ بجلی کے اضافی بلوں کی وجہ گھروں میں چولہے بجھ چکے ہیں،بچوں کی ا سکولوں کی فیس ادانہیں کر پا رہے،مہنگائی نے غریب کا جینا محال کردیا،ان کا کہنا تھا کہ بجلی بہت مہنگی ہو چکی ہے،یومیہ اجرت پیشہ ہی نہیں تنخواہ دار طبقے کے کا جینا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
تلاش کریں
خبریں

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
(January 10, 2013)
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
(January 10, 2013)
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
(January 9, 2013)
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

