واشنگٹن(پی پی آئی)وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدارجان کربی نیاس سوال پر کہ کیا صدر جو بائیڈن بھارتی رہنماؤں کے ساتھ کشمیر کے مسئلہ پر بھی بات کریں گے جان کربی نے کہا کہ امریکا کی کشمیر پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں کشیدگی کو فریقین خود ہی حل کر سکتے ہیں۔
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 25, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
سانحہ جڑانوالہ پر سینیٹ کا اجلاسطلب کرنے کی درخواست ’مسترد‘
اسلام آباد (پی پی آئی)سینیٹ سیکریٹریٹ نے جڑانوالہ سانحے پر بحث کے لیے ایوان بالا کا اجلاس بلانے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ درخواست مسترد کیے جانے پر بہت سے لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جب کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے کہا کہ ریکوزیشن پر دستخط کرنے والے 27 ارکان میں سے کچھ کے دستخط مختلف تھے جب کہ متعلقہ ممبران سے رابطہ کیے بغیر دستخطوں کی تصدیق کرنے کے سیکریٹریٹ کے اختیار پر سوالات کھڑے ہوگئے۔پی پی آئی کے مطابق پیپلز پارٹی نے اجلاس بلانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا، 27 سینیٹرز نے یکم ستمبر کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں آئین کے آرٹیکل 61 اور آرٹیکل 54 کی شق 3 کے تحت دستخط شدہ ریکوزیشن نوٹس جمع کرایا تھا، یہ نوٹس پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے پانچ سینیٹرز جن کے دستخط مبینہ طور پر مختلف تھے، ان میں فاروق ایچ نائیک، میاں رضا ربانی، پلوشہ محمد زئی خان، روبینہ خالد اور شمیم آفریدی شامل تھے، اس کے علاوہ سینیٹر محمد اکرم کے دستخط کو بھی مختلف قرار دیا گیا۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے ان 6 سینیٹرز میں سے کسی ایک کو بھی اس بات کی تصدیق کے لیے نہیں بلایا کہ انہوں نے ریکوزیشن نوٹس پر دستخط کیے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عناصر جڑانوالہ کے شرمناک واقعے پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے، اس کی وجہ کیا ہے، وہ عناصر ہی بہتر جانتے ہوں گے جب کہ اس سانحے کے دوران گرجا گھروں کی بے حرمتی کی گئی، مسیحی برادری کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو لوٹا گیا۔
کسی پاکستانی سے دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی‘ لیکن۔۔۔۔: ریحام خان
کراچی (پی پی آئی)سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ اور پاکستانی نژاد برطانوی صحافی ریحام خان نے حال ہی میں اپنی تیسری شادی سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ دوسری طلاق کے بعد ابتدائی طور پر انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی پاکستانی شخص سے دوبارہ شادی نہیں کریں گی۔پی پی آئی کے مطابق ماضی میں بی بی سی اور دیگر اداروں سے بحیثیت براڈکاسٹر وابستہ رہنے والی 50 سالہ صحافی ریحام خان نے دسمبر 2022 میں 36 سالہ مرزا بلال بیگ سے تیسری شادی کی ہے۔انہوں نے پہلی شادی 1990 میں کی تھی جو 2005 میں طلاق پر ختم ہوئی، انہیں پہلی شادی سے 3 جواں سالہ بچے بھی ہیں جو کہ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ریحام خان نے دوسری شادی جنوری 2015 میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے کی تھی مگر 10 ماہ بعد ہی ان کے درمیان اکتوبر 2015 میں طلاق ہوگئی تھی۔عمران خان سے شادی اور طلاق کے بعد ہی ریحام خان کو عالمی سطح پر شہرت ملی، وہ فلم پروڈکشن میں بھی قسمت آزمائی کر چکی ہیں۔ریحام خان نے کہا کہ ’میں کبھی کسی پاکستانی شخص سے دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور میرے بچے بھی ایسا چاہتے تھے، اپنی شادی سے متعلق بچوں سے بات کرنے میں کافی وقت لگا۔انہوں نے کہا کہ ’جب بڑی بیٹی کو میری شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے مجھے روکا کہ امی آپ دوبارہ غلطی کررہی ہیں، دوبارہ کسی پاکستانی شخص سے شادی کرنا احمقانہ فیصلہ ہے۔‘ریحام خان نے کہا کہ شادی کے بعد اب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، بلال کے میرے بچوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔اسی دوران مرزا بلال بیگ نے بھی انکشاف کیا کہ ریحام خان سے قبل ان کی 2 شادیاں ہوچکی ہیں جن سے ان کی طلاق بھی ہوچکی ہیں۔ریحام خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’بلال سے شادی کرنے سے قبل میں نے ثبوت کے طور پر طلاق نامے دیکھے تھے‘۔ریحام خان نے کہا کہ کم عمر مرد سے شادی کوئی نئی بات نہیں ہے، میرے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ایسی شادیاں کر رکھی ہیں لیکن وہ عوامی شخصیات نہیں ہیں
عارف علوی کو5 سالہ مدت پوری کرنے والے چوتھے صدر مملکت کا اعزاز حاصل
کراچی (پی پی آئی) کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عارف علوی 5 سالہ مدت پوری کرنے اور ملک کے جمہوری طور پر منتخب چوتھے صدر ہیں۔پی پی آئی کے مطابق اس سے قبل تین صدور چوہدری فضل الہٰی (پانچویں صدر، 1973 تا 1978)، آصف علی زرداری (گیارہویں صدر، 2008 تا 2013) اور ممنون حسین (بارہویں صدر، 2013 تا 2018) نے اپنی مدت صدارت مکمل کی تھی، لہٰذا ڈاکٹر عارف علوی مدت پوری کرنے والے مسلسل تیسرے صدر ہیں۔صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی میں ڈاکٹر عارف علوی کے غیر معینہ مدت تک عہدے پر رہنے کا امکان ہے، اس سے وہ ملکی تاریخ کے ان سربراہان مملکت میں سے ایک بن جائیں گے جن کی مدت میں توسیع ہوگی،پی پی آئی کے مطابق چونکہ عام انتخابات کے انعقاد پر پراسرایت ہے، الیکشن کمیشن بظاہر جنوری کے آخر میں انتخابات کا منصوبہ بنا رہا ہے، اس لیے ڈاکٹر عارف علوی کتنی دیر تک عہدے پر فائز رہیں گے، اس کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔
تلاش کریں
خبریں

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
(January 10, 2013)
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
(January 10, 2013)
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
(January 9, 2013)
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘
