کراچی (پی پی آئی)منفرد اندازاورحد درجہ خود اعتمادی کی وجہ سے راتوں رات میمرز کی توجہ کا مرکز بننے والے چاہت فتح علی خان کے نئے گانے ’لوٹالوٹا، بم بم‘ کی ویڈیو نے سوشل میڈیا ایک بارپھرگرما دیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ہاتھوں میں لوٹے تھامے چاہت فتح علی خان اس بات کسی اور کے گانے پر طبع آزمائی کے بجائے کچھ نیا لے کرآئے ہیں۔’لوٹا لوٹا، بم بم‘ کی ویڈیو میں سیاستدان، صحافی، تاجر، زمیندار، ملازمین سمیت ہرایک کوچیلنج کرنے والے چاہت فتح کا گانا ہی ذرا ہٹ کر پہنا گیا لباس بھی خصوصی توجہ کا مرکزہے۔سوشل میڈیا صارفین نئے گانے کو ملک کی حالیہ صورتحال کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔چاہت فتح نے شاعری میں لوٹوں کے قدوقامت اور جسامت گنواتے ہوئے ان کی خوبیوں پر’خوب’روشنی ڈالی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی سپورٹرز نے پارٹی چھوڑنے والے افراد کی تصویریں لگا کر گانے کا اپ ڈیٹڈ ورژن بھی جاری کردیا ہے۔ماہ اگست میں یہ دوسری بار ہے کہ چاہت فتح علی خان نے نیا گانا ریلیز کیا گیا ہے۔
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
ایک ماہ میں بیرون ممالک سے 2 ارب 89 کروڑ ڈالر موصول
کراچی (پی پی آئی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض کا نیا معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کو ملنے والے بیرونی فنڈز میں نمایاں تیزی آگئی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق صرف جولائی کے مہینے میں بیرون ممالک سے 2 ارب 89 کروڑ ڈالر کا قرضہ اور امداد ملی جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے 2 ارب 70 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔پی پی آئی کے مطابق اقتصادی امور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جولائی میں 2 ارب 87 کروڑ 61 لاکھ ڈالر کا بیرونی قرض حاصل ہوا، اس دوران بیرونی گرانٹ کی مد میں ایک کروڑ 44 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی امداد ملی۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس جمع کروائے، سعودی عرب سے تیل کی سہولت کی مد میں 10 کروڑ ڈالر ملے جبکہ پاکستان کو مختلف عالمی اداروں سے 19 کروڑ 36 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔مختلف ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر 11 کروڑ 38 لاکھ ڈالر سے زائد قرضہ ملا، آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر، یو اے ای نے 1 ارب ڈالر فراہم کیے۔آئی ایم ایف پروگرام بحال ہونے کے بعد پاکستان کو اب تک 5 ارب ڈالر سے زائد مل چکے ہیں، جس میں بجٹ سپورٹ کی مد میں ملنے والے 2.9 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال پاکستان میں 17 ارب 61 کروڑ ڈالر سے زائد کا بیرونی قرضہ و امداد ملنے کا امکان ہے۔
سابق وزیر مملکت زرتاج گل کی گرفتاری کے لیے چھاپہ
اسلام آباد(پی پی آئی) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ رہنما تحریک انصاف زرتاج گل پر ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، کک بیکس اور خورد برد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن نے سابق وزیر مملکت و رکن قومی اسمبلی زرتاج گل کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دئیے۔۔زرتاج گل اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں 10 فیصد تک کمیشن لیا۔ زرتاج گل کی گرفتاری کیلئے اینٹی کرپشن ٹیم نے ڈی جی خان میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ لیکن زرتاج گل گھرپر موجود نہیں تھیں، واضح رہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کے 10سابق وزراکے ڈپلومیٹک پاسپورٹس منسوخ/ غیر فعال کر دیئے تھے جن میں زرتاج گل بھی شامل ہیں۔
پی آئی اے نے 11 طیارے گراؤنڈ کردیے، 3 ناقابلِ مرمت قرار
کراچی (پی پی آئی)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے 3 بوئنگ 777 طیاروں سمیت 11 ہوائی جہازوں کو گراؤنڈ کر دیا کیونکہ ادارے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 کے قریب طیاروں کو چلانے والی پی آئی اے کو فنڈز کی کمی کے باعث گزشتہ 3 سال سے اسپیئر پارٹس کی خریداری میں بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔ان میں سے 3 بوئنگ 777 طیاروں میں سے 2 کو 2020 میں اور ایک کو 2021 میں گراؤنڈ کیا گیا تھا، 5 اے-320 طیارے بھی گراؤنڈ کیے گئے ہیں جن میں سے 2 طیارے 2021 میں اور 3 طیارے 2023 میں گراونڈ کیے گئے، علاوہ ازیں پی آئی اے نے 3 اے ٹی آر طیارے بھی گراؤنڈ کیے جن میں سے پہلا 2020، دوسرا 2022 اور تیسرا 2023 میں گراونڈ کیا گیا۔پی پی آئی کے مطابق پی آئی اے کے بیڑے میں 31 طیارے شامل ہیں اس وقت بقیہ 20 طیاروں کے ساتھ فعال ہے اور فلائٹ آپریشن جاری ہے۔پی آئی اے کی ویب سائٹ کے مطابق 19 ممالک پر مشتمل پی آئی اے کا نیٹ ورک ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا تک پھیلا ہوا ہے۔
تلاش کریں
خبریں

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘
