گڈانی (پی پی آئی)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ان کی 38ویں سالگرہ پرپاکستان میں دلچسپ اور انوکھے اندازمیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحل گڈانی بیچ پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی 38 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کی 70 فٹ لمبی تصویر بنائی گئی۔ پی پی آئی کے مطابق ساحل پرریت سے فن پارے بنانے والے ہنرمندوں کے گروپ نے یہ تصویر سعودی ولی عہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بنائی۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ ساحلی آرٹسٹ سمیر شوکت نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہم ولی عہد کو ان کی 38 ویں سالگرہ پر مبارکباد دینا چاہتے تھے، لہذا ہم نے گڈانی ساحل پر ان کی 70 فٹ لمبی تصویر بنائی ہے‘۔
’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
عمران کا عالمی عدالت میں جانے کا اعلان ریاست کے خلاف ہے، عطا تارڑ
لاہور(پی پی آئی)مسلم لیگ ن کے رہنماعطا محمد تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عالمی عدالت میں جانے کے لیے غیرملکی وکیل جیفری رابرٹسن کو ہائرکیا ہے جو اسلام مخالف ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جیفری رابرٹسن کے اسرائیل سے روابط رہے ہیں اور وہ ملعون سلمان رشدی کا وکیل رہا ہے۔ یہ وکیل اسلام مخالف پروپیگنڈے میں بھی شامل رہا ہے۔ جیفری رابرٹسن نے ناصرف ملعون سلمان رشدی کی وکالت کی بلکہ اسے اپنے گھر میں پناہ بھی دی۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اپنی وکالت کے لیے ملعون سلمان رشدی کا ہی وکیل ملاہے جس کے ذریعے انسانی حقوق کا مقدمہ بنا کرعالمی عدالت سے مدد لی جا رہی ہے جبکہ عالمی عدالت میں مقدمات دو ممالک کے درمیان تنازعات کے جاتے ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ مقدمہ عالمی عدالت میں لے جانے کا مقصد پی ٹی آئی ریاست کے خلاف عالمی عدالت جا رہی ہے۔ کوئی اپنی سیاست کی خاطر اس حد تک بھی جا سکتا ہے؟ دشمنوں نے اپنے ٹی وی شوز میں کہا کہ ہمیں چیئرمین پی ٹی آ ٓئی سوٹ کرتا ہے۔رہنمامسلم لیگ ن نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملکی اداروں کے خلاف کام کیا۔ انھوں نے نو مئی کے واقعات، سائفر، توشہ خانہ ملک دشمنوں کوخوش کرنے کے لیے کیے۔ جو کیسز بھگت رہے ہیں یہ آپ کا ہی کیا دھرا ہے۔ توشہ خانہ کی چوری ڈکیتی اربوں روپے میں ہے۔ کیا سائفرکا کیس ہم نے بنایا؟ ہم نے کہا تھا سائفر لہرائیں؟
انسداد دہشتگردی کی لاہور عدالت سے اسد عمر 5 مقدمات میں ڈسچارج
لاہور(پی پی آئی)انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کو پانچ مقدمات سے ڈسچارج کر دیا۔دورانِ سماعت پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اسد عمر 5 مقدمات میں مطلوب نہیں ہیں۔پی پی آئی کے مطابق اسد عمر نے تھانہ سرور روڈ کے تین، تھانہ ریس کورس اور گلبرگ کے ایک ایک مقدمہ میں عبوری ضمانتیں دائر کی تھیں۔مقدمہ نمبر 852/23 ریس کورس، مقدمہ نمبر 1283/23 گلبرگ مقدمہ نمبر 97/23، 103/23، 108/23 سرور روڈ میں درج ہیں جبکہ 5 مقدمات میں نو مئی کو توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرانے کا الزام تھا۔دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت میں ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کا آفس جلانے سے متعلق بھی کیس کی سماعت ہوئی۔
پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی مصر میں بین الاقوامی فضائی مشق میں شرکت
قاہرہ (پی پی آئی)پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے مصر میں بین الاقوامی فضائی مشق میں شرکت کیلئے ان دنوں مصر میں ہیں۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق مصر کے محمد نجیب ملٹری بیس میں بین الاقوامی فضائی مشق“برائٹ اسٹار 2023”کا آغاز ہو گیا، مشق میں حصہ لینے والے پاک فضائیہ کے دستے میں ہنرمند ایئر و گراؤنڈ عملہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے گا۔پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق برائٹ اسٹار مشق، 1977کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نتیجے میں امریکہ اور مصر کے درمیان دو طرفہ تربیتی پروگرام کے طور پر شروع ہوئی، برائٹ اسٹار مشق ایک اہم بین الاقوامی مشق کی حیثیت سے جانی جاتی ہے،پی پی آئی کے مطابق 1995 کے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ممالک کو اس مشق میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔برائٹ اسٹار عالمی سطح پر منعقد کی جانے والی سب سے بڑی اور سب سے پیچیدہ مشترکہ فضائی مشقوں میں سے ایک ہے، مشق کا مقصد شریک ممالک کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مشترکہ تربیت کے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے، مشق حقیقت پسندانہ فضائی جنگ کی صورتحال کی سیمولیشن کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، فضائی مشق شریک ممالک کی فضائی افواج کو اپنی حقیقی آپریشنل تیاریوں کو جانچنے کا موقع فراہم کرے گی۔ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ فضائی مشق دو ہفتوں تک جاری رہے گی، مشق کے دوران شریک ممالک مصر کے شمال مغربی علاقے، قاہرہ کے صحرائی خطہ میں اپنے فضائی، بحری اور بری اثاثوں کے ساتھ حصہ لیں گے۔
تلاش کریں
خبریں
کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا
(June 28, 2026)
پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی
(June 28, 2026)
ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک
(June 28, 2026)

’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
(January 31, 2013)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔ جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور 102 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی۔ سپریم کورٹ کے بنچ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد صدر اور وزیراعظم اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق صدر اور وزیر اعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم کی تقرری میں بھی صدر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر نگران وزیرِ اعظم کا تقرر جانے والے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کے مشورے پر اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اندر کرنے کا پابند ہو گا۔ اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر بھی وزیرِ اعظم کے مشورے سے ہو گا۔ صدارتی ریفرنس میں تیرہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں صدر نے اعلیِ عدالت سے کئی معاملات پر رائے طلب کی تھی۔ ان میں جسٹس ریاض اور جسٹس کاسی کی سینیارٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ بنچ نے 14 دسمبر 2012 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
(January 10, 2013)
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
(January 10, 2013)
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
(January 9, 2013)
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘
