ایشین باڈی بلڈنگ چمپیئن شپ : پاکستان نے جیت لیا

ٹریفک قوانین پر عمل کر کے ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح کوکم کیا جا سکتاہے: مراد علی شاہ

ضلع تھر پارکر میں کمیونٹی مڈوائفز نے سینکڑوں ماﺅں اور نومولود بچوں کو بچا یا : پروگرام مینیجر ایم این ایچ سندھ

مردوں کے مقابلے بھی 3سیٹس پر مشتمل ہونے چاہیں: ماریا شراپوا

تھر پارکر کے بعد میرپور خاص میں بچوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

جنوبی افریقا سست ، آسٹریلیا پر جوش ٹیم ہے : ڈیرن لہمن

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

ایشین باڈی بلڈنگ چمپیئن شپ : پاکستان نے جیت لیا

لاہور: دسویں ایشین باڈی بلڈنگ چمپیئن شپ پاکستان نے 49پوائنٹس کے ساتھ جیت لی ۔ الحمرا ہال لاہور میں یوتھ فیسٹول کے زیر اہتمام مسٹر ایشیا اور جونیئر مسٹر ساﺅتھ ایشیا کے مقابلے ہوئے ، دونوں مقابلے میزبا ن پاکستان نے جیت لیے ۔ مقابلوں میں پاکستان ، افغا نستان اور نیپال کے 40تن سازوں نے سینیئرز کی 9اور جونیئر ز کی 2کیٹگریوں میں حصہ لیا ، پاکستان نے مجمو عی طور پر 49افغانستان 31اور نیپا ل نے10پوائنٹ حاصل کیے ۔چمپیئن شپ کے اختتامی تقریب میں فاتح تن سازوں میں ٹرافیاں اور سرٹیفیکٹس تقسیم کیے گئے۔ مہمان کھلاڑیوں نے پاکستانیوں کے اچھے برتاﺅ کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور دہشت گردی کا پرو پیگنڈہ بے بنیاد ہے۔

مزید پڑھیں

ٹریفک قوانین پر عمل کر کے ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح کوکم کیا جا سکتاہے: مراد علی شاہ

حیدرآباد: صوبائی مشیر برائے خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم ٹریفک قوانین پر عمل کر کے ٹریفک حادثات کی شرح اموات کم کرسکتے ہیں ،دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں سے 4 فیصد سے زیادہ افراد سالانہ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو جاتے ہیںجو کہ باعث تشویش ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج مہران انجینیرنگ یونیورسٹی جامشورو کے مین آڈیٹوریم میں نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس کی جانب سے روڈ سیفٹی کے موضو ع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس ذوالفقار علی چیمہ ، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد جمال مصطفی سید ، ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد ریجن ثنا اللہ عباسی ، ڈی آئی جی موٹر وے پولیس اے ڈی خواجہ ، وائس چانسلر مہران یونیورسٹی ڈاکٹر اسلم عقیلی ، ڈپٹی کمشنر جامشورو سہیل ادیب بچانی ، ایس ایس پی جامشورو سید وصی حیدر کے علاوہ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر نے کہا کہ اس حسا س موضوع کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ روڈ حادثات میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جو کہ ہمارے ملک کا مستقبل ہیں ۔ انھوںنے کہا کہ حادثات میں کمی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا اور ایسے آگاہی سیمینار ، واک اور دیگر پروگراموں کے ذریعے عوام کو ٹریفک کے قوانین سے آگاہ کرنا ہو گا اور ٹریفک پولیس کو بھی چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین پر عملدر آمد کو یقینی بنائیں ۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر حیدرآباد جمال مصطفی سید نے کہا کہ ہر سال ٹریفک حادثات میں 12 ہزار سے زائد افراد ہلاک جب کہ 50 ہزار کے قریب زخمی ہوتے ہیں جوکہ انتہائی تشویش کی بات ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنی موثر حکمت عملی کے ذریعے ایسے حادثات پر قابو پاسکتے ہیں جس کے لیے ہماری سڑکیں معیار ہونی چاہیے اور عوام کو ٹریفک کے قوانین ضوابط سے متعلق معلومات ہونا چاہیے جب کہ 80 فیصد حادثات ڈرائیورز کی غفلت کے باعث ہوتے ہیں ۔اس موقع پر آئی جی نیشنل ہائی وےز اینڈ موثر وے پولیس ذوالفقار علی چیمہ ، ڈی آئی جی حیدرآباد ثنا اللہ عباسی ، وائیس چانسلر مہران یونیورسٹی ڈاکٹر اسلم عقیلی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باعث قوم ہم ٹریفک قوانین سے واقف نہیں ہیں جب کہ میڈیا نے بھی اس حساس معاملے کو فراموش کیا ہوا ہے ۔ جس طرح میڈیا دیگر امور پروگرام نشر کرتا ہے اسی طرح ٹریفک قوانین سے متعلق عوام میں آگاہی بیدار کرنے میں پروگرامز نشر کرے ۔

مزید پڑھیں

ضلع تھر پارکر میں کمیونٹی مڈوائفز نے سینکڑوں ماﺅں اور نومولود بچوں کو بچا یا : پروگرام مینیجر ایم این ایچ سندھ

کراچی: ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے پروگرام ایم این سی ایچ سندھ کی پروگرام منیجر ڈاکٹر صاحب جان بدر کا کہنا ہے کہ ضلع تھرپارکر میں تعینات کمیونٹی مڈوائفز نے سینکڑوں ماوں اورنومولود بچوں کو دوران زچگی موت کے منہ سے بچایا ہے ورنہ قحط کی موجودہ صورت حال میں ہونے والی اموات کئی گنا زیادہ ہوتیں۔وہاں تعینات صرف 35 کمیونٹی مڈ وائفز نے صرف گزشتہ سال 2013 کے دوران 1600 زچگیاں اپنی نگرانی میں کرائی ہیں جس کی وجہ سے مائیں زچگی کی ممکنہ پیچیدگیوں ، اموات اور نومولود بچے بھی بچ گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جان بدر نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مٹھی میں موجود ہیں اور صورت حال میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تھرپارکر میں سب سے بڑامسئلہ، خوراک، غذائیت اورصاف پانی کی عدم فراہمی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت تربیت دینے کے بعد 35 کمیونٹی مڈوائفز کو پورے ضلع میں دور دراز گاوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں انہوں نے پورے سال کے دوران 1600 زچگیاں اپنی نگرانی میں کرائی ہیں۔ ان ماوں کو بچے کی پیدائش سے قبل معائنے اور دیکھ بھال کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ ان کمیونٹی مڈوائفز نے 8 ہزار 192 اینٹی نیٹل چیک اپ، 98 پوسٹ نیٹل چیک اپ کیے اور 203 ماوں کو بہتر طبی مرکز کو ریفر کیا۔ ایم این سی ایچ سندھ کی پروگرام منیجر ڈاکٹر صاحب جان نے بتایا کہ ان کمیونٹی مڈوائف ز نے 1407 خاندانوں کو فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کیں جبکہ ٹی ٹی ون ٹیکے کے لیے 171 اور ٹی ٹی ٹو کے لیے 1707ماوں کو قریبی بڑے طبی مرکز بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع تھرپارکر کی 44 یونین کونسلز میں 13 لاکھ سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے۔ انہیں ان 35 کمیونٹی مڈ وائف ز سے طبی سہولیات نہیں دی جا سکتیں، ضروری ہے کہ ہر 5 ہزار کی آبادی کے لیے ایک تربیت یافتہ کمیونٹی مڈوائف دستیاب ہو۔ انھوں نے کہا کہ ان کمیونٹی مڈوائفز کی وجہ سے اس ضلع میں دوران زچگی ماوں اور نومولود بچوں کی شرح اموات میں بہت کمی آئی ہے ورنہ موجودہ صورت حال میں یہ اموات کئی گنا زیادہ ہو سکتی تھیں۔ اس بہتر کارکردگی پر کمیونٹی مڈوائفز خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضلع تھرپارکر کے گاوں و دیہات میں پڑھی لکھی حتیٰ کہ میٹرک پاس لڑکی ملنا بھی بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این سی ایچ پروگرام کمیونٹی مڈ وائفز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے صحت مند بے بی کی خوراک کے لیے بھی کام کرے گا۔

مزید پڑھیں

مردوں کے مقابلے بھی 3سیٹس پر مشتمل ہونے چاہیں: ماریا شراپوا

لندن: روس کی ٹینس اسٹار ماریا شراپوا نے مطالبہ کیا ہے کہ گرینڈ سلم میں ویمنز کی طرح مینز کے مقابلے بھی 3 سیٹس پر مشتمل ہونے چاہیں۔ 5 سیٹس میں جسم کا توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں مرد حضرات تھری سیٹس میں بھی بہتری کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ٹینس کوئن ماریا شراپوا نے مینز گرینڈ سلم کے لئے تین سیٹس پر مشتمل میچ کا مطالبہ کر دیا جبکہ وملبڈن چیمپئن اینڈی مرے روسی کھلاڑی شراپووا کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ عالمی نمبر 5 روسی ٹینس سٹار ماریا شراپوا کا کہنا ہے کہ گرینڈ سلم میں وویمنز کی طرح مینز کے بھی مقابلے تین سیٹس پر مشتمل ہونے چاہیں کیونکہ پانچ سیٹس میں جسم کا توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں مرد حضرات تھری سیٹس میں بھی بہتری کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی ٹینس سٹار اینڈی مرے کا کہنا ہے کہ مرد حضرات ٹینس کے سب سے بڑے میگا ایونٹ ہوتے ہیں اور ان کو پانچوں سینٹ میں کھیلنا زیادہ موزوں ہے کیونکہ میچ میں صرف ان کی جسمانی کارکردگی کا امتحان ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مردوں کے لیے پانچ سیٹس پرمشتمل میچز زبرست ہیں اور ان پانچ سیٹس میں کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔

مزید پڑھیں

تھر پارکر کے بعد میرپور خاص میں بچوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

میرپورخاص: تھر پا رکر کے بعد میر پو ر خاص میں بھی بچوں میں وبائی امراض پھو ٹ پڑے، مختلف امراض میں مبتلا 50 سے زائد بچوں کو سول اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تھر پا ر کر کے بعد میر پو ر خاص ڈسٹر کٹ کے بچوں میں بھی وبائی امراض پھو ٹ پڑے، سول اسپتال میں اےک سال سے پانچ سال تک کی عمر کے 50 بچوں کو ایک ہی روز میں داخل کردےا گیا سول اسپتال میں داخل کئے جانے والے بچوں میں سانس ،نمونےا ،ڈائرےا سمےت دےگر بےمارےوں میں مبتلا بچوں کی اےک بڑی تعداد موجو د ہے ۔میرپورخاص سول اسپتال میں انتظامات کے فقدان کے سبب ایک ایک بیڈ پر چار چار بچوں کا علاج کیا جارہا ہے جبکہ دواﺅںکی قلت اور سانس کے مر ض میں مبتلا بچوں کو انکیوبیٹر مشےن میں رکھنے کی سہولےات بھی موجو د نہےں ہے جبکہ اسپتال میں داخل بچوں میں تھر پا ر کر اور عمرکو ٹ سے آنے والے بچے بھی شامل ہےں جنھےں تھر پا ر کر اور عمرکو ٹ کے اسپتالو ں میںعلاج کی سہولےا ت فراہم نہ ہونے کے باعث سول اسپتال میر پو ر خاص میں داخل کیا گیا ہے، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سول اسپتال میں بچوں کے علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہاں کے بچوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے ۔

مزید پڑھیں

جنوبی افریقا سست ، آسٹریلیا پر جوش ٹیم ہے : ڈیرن لہمن

جو ہانسبرگ: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈیرن لہمن نے کہا ہے کہ جنوبی افریقی کھلاڑی بہت سست ہیں ۔ ڈیرن لہمن کا کہنا تھاکہ ہمارے کھلاڑی ہار کے خوف سے بالا تر ہو کر لھیلتے ہیںجبکہ افریقی ٹیم ہار کے خوف سے باہر نہیں آ سکی جس کا نتیجہ انھیںسیریز میں ناکا می کی صورت میں اٹھا نا پڑا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آخری میچ میں جنوبی افریقی ٹیم دو رنز پر اوور کی اوسط سے اسکو ر کر رہی تھی جبکہ ان کے سامنے 511رنز کا پہاڑ کھڑا تھا لیکن وہ میچ کو ڈرا کر نے کے لیے کھیل رہے تھے ۔لہمن نے کہا کہ کر کٹ میں جارہانہ پن آسٹریلوی کلچر کا حصہ جس کے باعث تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد گراﺅنڈ کا رخ کرتی ہے، ہمارے کھلاڑی ہار سے نہیں ڈرتے بلکہ صحیح معنوں میں اچھی کر کٹ کے ذریعے لو گوں کو تفریح فراہم کر تے ہیں۔ لہمن نے کہا کہ ہم ٹیسٹ سیریز کو کرکٹ برانڈ کے طور پر کھیل رہے تھے اور جس انداز سے ہم کھیل رہے تھے اس کا نتیجہ جیت ہی تھا، ا ن کا کہنا تھا کہ یہ ہر ٹیم کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ آسان اور سست وکٹ پر کھیلنا چاہےں اور میچ کو مزید سست بنادیں۔

مزید پڑھیں