سری نگر (پی پی آئی)متحدہ مجلس علما مقبوضہ جموں وکشمیر کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظربندی اور انہیں مسلسل 211 ویں جمعہ کو جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر مقبوضہ وادی کی مساجد میں علمائے کرام نے سخت تشویش ظاہر کی متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے سرکردہ اراکین نے افسوس ظاہر کیاکہ میر واعظ عمر فاروق 4 اگست 2019سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اور قابض انتظامیہ نے انکی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر رہی ہے۔ انہوں نے میرواعظ کی طویل ترین نظربندی پرسخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی وجہ سے جامع مسجد کے منبر و محراب گزشتہ4 سال سے زائد عرصے سے رشدو ہدایت، قال اللہ وقال الرسول ﷺ پر مبنی مواعظ حسنہ اور دعوت و تبلیغ سے مکمل طور پر خاموش ہیں۔مجلس علما نے میرواعظ عمر فاروق کے علاوہ معروف خطیب اوراسکالر مولانا مشتاق احمد ویری اور مولوی عبدالرشید دادی کے علاوہ مجلس کے جنرل سیکریٹری مولانا سید الرحمن شمس رہائی کا بھی مطالبہ کیا جو کہ کئی برس سے جیلوں میں قید ہیں۔علاوہ ازیں مختلف مقامات پر میرواعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظربندی کیخلاف احتجاج اور رہائی کیلئے مظاہرے بھی کئے گئے۔
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
عمران کے ساتھ کھڑا ہوں، کمرہ عدالت سے پرویز الٰہی کی کا شیخ رشید سے تبادلہ خیال
اسلام آباد(پی پی آئی) سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا توکمرہ عدالت میں وکیل نے اپنے فون سے پرویز الٰہی کی شیخ رشید سے بات کروائی۔ذرائع کے مطابق پرویز الہیٰ اور شیخ رشید کے مابین دو بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔پی پی آئی کے مطابق پرویز الہیٰ نے شیخ رشید کو کہا کہ مجھے دو دن تھانہ سی آئی اے میں رکھا جس میں آپ کو رکھاگیا۔بہت ظالم لوگ ہیں، میں نے بتایا دل میں اسٹنٹ پڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے بارے میں تھانے والے بتا رہے تھے کہ جب شیخ رشید گرفتار تھے تو انہیں بخار تھا۔تو کہا گیا شیخ رشید کو رضائی نہیں دینی، پھر کچھ لوگوں نے رضائی کمبل آپ کو دئیے۔ پرویز الٰہی نے نگران وزیراعلی پنجاب کا بھی فون کال پر تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن حالات آپ کو معلوم ہیں۔عمران کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں سب معلوم ہے۔پی ٹی آئی میں باقیوں کا آپ کو معلوم ہے۔
ملک بھر میں بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن، سابق ایم این اے سمیت 300سے زائدشامل
اسلام آباد (پی پی آئی)بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران لاہور میں سابق رکن قومی اسمبلی سمیت 300سے زیادہ بجلی چوروں کے نام سامنے آئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق بجلی چوروں کے ساتھ نرمی ختم کرکے کارروائی شروع کردی گئی ہے اور اسلام آباد پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی بجلی چوروں کو گرفتار کرکے مقدمات درج کرلیے ہیں۔ادھر لاہور سمیت لیسکو ریجن میں بھی گرینڈ آپریشن کیا گیا جہاں سابق رکن قومی اسمبلی سمیت 300سے زیادہ بجلی چوروں کے نام سامنے آئے جن کیخلاف 130مقدمے درج کیے گئے ہیں۔پشاور میں بھی قانون حرکت میں آگیا جہاں بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جب کہ میرپور خاص، نواب شاہ، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، ٹنڈو الہ یار اور سندھ کے دیگر شہروں میں بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔دوسری جانب کیسکو چیف عبدالکریم جمالی نے بتایا کہ بلوچستان کے علاقے نوشکی، پشین، خانوزئی اور لورالائی میں 67بجلی چوروں کے کنکشنز منقطع اور برقی آلات ضبط کرلیے گئے جب کہ بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کیلئے درخواستیں متعلقہ تھانوں میں جمع کروادی گئی ہیں۔عبد الکریم جمالی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں تقریبا 2کروڑ 30لاکھ کی نادہندہ سیمنٹ فیکٹری اور 44لاکھ روپے کی نادہندہ ایک آئس فیکٹری کے کنکشنز بھی بلوں کی عدم ادائیگی پر منقطع کردیے گئے ہیں۔
سندھ میں سلیکا سینڈسمیت50 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر کا انکشاف
کراچی (پی پی آئی)نگراں صوبائی وزیر معدنیات و ذخائر میر خدا بخش مری نے کہا ہے کہ صرف سندھ کی سرزمین پر پچاس ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے سلیکا سینڈ سمیت معدنی ذخائرموجود ہیں جبکہ ملک محض ایک ٹریلین ڈالر کے لیے ترس رہا ہے۔یہ بات انہوں نے محکمہ معدنیات و ذخائر ڈویلپمنٹ اور داود یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔میر خدا بخش مری نے کہا کہ پہلی بار بائیولوجیکل مشینوں کے استعمال، ڈیٹا شئیرنگ اور ریسرچ کے ذریعے سے ان ذخائر سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔صوبائی وزیر برائے معدنیات کا کہنا تھا کہ ماضی میں محکمے، جامعات اور متعلقہ ذمہ داران کی غلطیوں سے اس محکمے میں بہتر کام نہ ہوسکا، دنیا کے مختلف ممالک کی جی ڈی پی ان کی معدنیات پر منحصر ہے، ہماری کوشش ہے کہ اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری لائی جائے۔۔نگراں صوبائی وزیر کا کہنا تھاکہ سندھ کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی مائننگ کے خلاف اداروں کو شکایتی خط لکھا ہے، محکمہ کا سسٹم ڈیجیٹلائز کرنے اور مانیٹرنگ کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی
تلاش کریں
خبریں

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘