دبئی (پی پی آئی)عرب امارات کی ریاست دبئی میں ایک مصروف شاہراہ پر پاکستانی ڈیلیوری بوائے وقاص سرور نے ایک بیریئر پڑا ہوا دیکھا تو اپنی موٹرسائیکل روکی اور اْس بیریئر کو ہٹا کر سائیڈ پر رکھ دیا۔انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا یہ عمل کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا ہے اور ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے گی۔پی پی آئی کے مطابق ان کے اس عمل پر انہیں شاباشی متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے ہیومن ریسورسز اور اماراتائزیشن نے دی اور ویڈیو بھی ٹوئٹر (ایکس) پر شیئر کی۔ اماراتی وزارت کے انڈر سیکریٹری برائے ہیومن ریسورسز افیئرز خیلیل الخوری نے انہیں خوش آمدید کہا، اعزاز بخشا اور ایک اچھا عمل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔‘خ‘اپنے اچھے عمل پر تعریفیں اور تحائف کا حقدار قرار پانے والے وقاص سرور کا کہنا ہے کہ ’ان کے لیے عزت ملنا سب سے زیادہ اہم ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک اعلیٰ عہدے دار نے مجھ سے رابطہ کیا، مجھ سے شفقت سے بات کی اور ایک تحفہ بھی دیا۔ میں بہت خوش ہوں۔ تحفہ اہم نہیں ہے بلکہ اہم وہ عزت ہے جو لوگ مجھے دے رہے ہیں۔‘
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
اوکاڑہ میں اجتماعات ، شہدائے معرکہ حق کو خراج عقیدت پیش
متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی
- April 23, 2026
اشتہار
تازہ ترین
شیخ حسینہ لذیذ آم بھجوانے پر وزیراعظم شہباز شریف کی مشکور
ڈھاکہ/ اسلام آباد (پی پی آئی) بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے پاکستان سے تحفے میں آم بھیجنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق شیخ حسینہ نے خط میں آموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے آم بھیجنے پر آپ کی مشکور ہوں، آم بہت لذیذ ہیں، ہم خوب محظوظ ہوئے۔انہوں نے خط میں شہباز شریف کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے ترقی پانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔شیخ حسینہ نے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے آپ کے لیے صحت مند اور خوشگوار زندگی کی دعائیں۔جب کہ گذشتہ ماہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی پاکستانی ہم منصب شہباز شریف کو آموں کا تحفہ بھجوایا تھا۔پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد روح العالم صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم حسینہ واجد کا یہ تحفہ دونوں بردار ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گا اورباہمی تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر نے 1500 کلو آم وزارت خارجہ کے پروٹوکول افسر کے حوالے کیے۔اس سے قبل جب گذشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف ترکی گئے تو ان کی ترک صدر ایردوان سے ہونے والی ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے ترک صدر سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کیلئے آموں کا تحفہ لایا ہوں۔
یوٹیلیٹی سٹورز کی سبسڈی ختم،بینظیر انکم سپورٹ مستحقین کیلئے چینی 30، گھی 53 روپے مہنگا
کراچی (پی پی آئی) حکومت نے جاتے جاتے عوام پر ایک اور مہنگائی بم گرا دیا، یوٹیلیٹی سٹورز کی سبسڈی ختم کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ مستحقین کیلئے چینی اور گھی مہنگا کر دیا۔ پی پی آئی کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 30 اور گھی 53 روپے مہنگا کر دیا گیا، یوٹیلیٹی سٹورز کی سبسڈی ختم کردی گئی ہے جس کے باعث بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ افراد متاثر ہوئے ہیں،یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی ختم ہونے کے بعد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت استفادہ کرنے والے مستحقین کے لیے چینی اور گھی مہنگا ہوگیا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 30 روپے اور گھی 53 روپے فی کلو مہنگا کردیا گیا ہے۔
یوم آزادی پر تعطیل کے باعث سرکاری و بینک ملازمین کی موجیں
کراچی (پی پی آئی) 14 اگست کو تعطیل کے اعلان کے بعد سرکاری و بینک ملازمین کی موجیں لگ گئیں کیونکہ ایک ساتھ تین چھٹیاں کرنے کا موقع مل گیا۔پی پی آئی کے مطابق سرکاری اداروں میں ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہونے کے باعث 14 اگست بروز پیر بھی چھٹی مل گئی، جس کے بعد اب سرکاری اور بینک ملازمین ایک ساتھ تین چھٹیاں کریں گے،ہفتہ کو بینکوں کی چند محدود اور مخصوص برانچیں کھلیں گی،مالیاتی اداروں میں منگل کو معمول کی سرگرمی ہو گی۔
تلاش کریں
خبریں

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

