اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ،جج سمیت 11 جاں بحق،تحریک طالبان کی لاتعلقی

امریکا ، بھارت مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں:مولانا سمیع الحق

چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کچہری میں دہشتگردی کااز خود نوٹس لے لیا

خیبر ایجنسی : پولیو ٹیم کے قافلے پر بم حملہ، خاصہ دار اہلکاروں سمیت 11افراد جاں بحق

غازی عبدالرشید قتل کیس :پرویز مشرف کا ایک دن کا استثنیٰ حاصل

کرکٹر عمر اکمل کیخلاف کیس واپس لینے کیلئے پنجاب پولیس پر دباﺅ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ،جج سمیت 11 جاں بحق،تحریک طالبان کی لاتعلقی

اسلام آباد: اسلام آباد کی ضلع کچہری میں دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ، واقعے میں11 افراد جاں بحق 35زخمی ہو گئے ، صدر ، وزیر اعظم سمیت ملک بھر کی سیاسی قیادت نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا ہے ، کالعدم تحریک طالبان نے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ۔اسلام آباد میں ایف ایٹ کچہری میں صبح نو بجے کے قریب دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے اور گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ واقعے کے فوری بعد کچہری اور اس سے متصل مارکیٹ میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔لوگوں جانیں بچانے کیلئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کے پاس ہینڈ گرنیڈ بھی تھے۔حملہ آوروں نے ججوں اور وکلاءچیمبرز کو بھی نشانہ بنایا۔دہشت گردی کے اس واقعے میں ایڈیشنل اینڈ سیشن جج رفاقت اعوان بھی شہید ہو گئے۔پندرہ بیس منٹ تک ہونے والی فائرنگ سے خواتین وکلاءسمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔زخمی ہونے والوں میں وکلاءکی تعداد زیادہ ہے۔ واقعہ کے فوری بعد رینجرز، پولیس اور ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ سیکورٹی فورسز نے کچہری سمیت پورا علاقہ خالی کرا کے سرچ آپریشن کیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ دو حملہ آوروں نے گرنیڈ پھینکنے کے بعد خود کو اڑا لیا۔امدادی ٹیموں نے فوری طور پر زخمیوں کو پمز ہسپتال اسلام آباد منتقل کر دیا گیا جہاں متعدد زخمی تشویشناک حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ایسے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں،ہمارا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پروفیسر جاوید اکرم نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلاءکی ہے۔

مزید پڑھیں

امریکا ، بھارت مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں:مولانا سمیع الحق

اسلام آباد: مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت بغیر ثبوت کسی کارروائی کو طالبان کے کھاتے میں نہ ڈالے ، مذاکراتی عمل کو داخلی سازشوں سے بچایا جائے ، منزل کی طرف چل پڑے ہیں ، مذاکرات ضرور کامیاب ہوں گے ، دوسری جانب حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے لئے آج لائحہ عمل تیار ہو گا۔عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچنے پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر بات کرتے ہوئے سمیع الحق نے کہا کہ امن دشمنوں کو بے نقاب کرنا ہو گا۔امریکا ، بھارت مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بغیر تحقیق کسی کارروائی کو طالبان کے کھاتے میں نہ ڈالے۔طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا منزل کی طرف چل پڑے ہیں۔مذاکرات ضرور کامیاب ہوں گے ، مذاکراتی عمل کو داخلی سازشوں سے بچایا جائے۔دریں اثناءاسلام آباد ائیرپورٹ پر مولانا سمیع الحق اور عمران خان میں ملاقات ہوئی جس میں جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان سے مذاکرات کے حامیوں اور مخالفین کا پتہ چل جائے گا۔دونوں رہنماوں میں اسی ہفتے تفصیلی ملاقات پر اتفاق بھی ہوا۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق طالبان سے مذاکرات کے لئے قائم حکومتی کمیٹی کے مستقبل کا فیصلہ بھی آج کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی قائم رکھنا ہو گی تو اِس میں توسیع ہو گی اور فرنٹ پر وزیر داخلہ کو بٹھانا ہوگا۔ حکومتی کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے علاوہ بھی بعض قوتیں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں

چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کچہری میں دہشتگردی کااز خود نوٹس لے لیا

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اسلام آباد کچہری واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی، چیف کمشنر اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کو منگل کو رپورٹ سمیت طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو اسلام آباد کے ایف ایٹ کچہری میں دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ اور خود کش حملے میں ایڈیشنل سیشن جج سمیت 11 افراد جاں بحق اور 35 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے از خود نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی اسلام آباد سکندر حیات وسیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر کو طلب کر لیا ہے۔ جبکہ چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔

مزید پڑھیں

خیبر ایجنسی : پولیو ٹیم کے قافلے پر بم حملہ، خاصہ دار اہلکاروں سمیت 11افراد جاں بحق

خیبر ایجنسی: خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں پولیو ٹیم کے قافلے کے قریب بم دھماکے میں خاصہ دار فورس کے اہلکاروں سمیت 11 جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ادھر پشاور میں سیکورٹی فورسز نے مبینہ خود کش حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے لاشوڑا میں پولیو ٹیم ورکرز سیکورٹی اہلکاروں کے ہمراہ علاقے میں بچوں کو پولیو ویکسین پلا رہے تھے کہ ان کے قافلے کے قریب یکے بعد دیگرے تین بم دھماکے ہوئے جس سے خاصہ دار فورس کے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو طبی امداد کے لئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے ۔ جاں بحق ہونے والوں میں خاصہ دار ، رضاکار ، اور پولیو ورکرز بھی شامل ہیں۔پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق دھماکے پہلے سے نصب شدہ بم کے ذریعے کئے گئے۔ واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔دوسری جانب پشاور میں سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا ، خودکش حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیو ورکرز کو نشانہ بنانا تھا۔

مزید پڑھیں

غازی عبدالرشید قتل کیس :پرویز مشرف کا ایک دن کا استثنیٰ حاصل

اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غازی عبدالرشید قتل کیس میں پرویز مشرف کو حاضری سے ایک دن کا استثنیٰ دے دیا ، آئندہ سماعت پر سابق صدر کو حاضری سے مستقل استثنیٰ دینے سے متعلق بحث ہو گی۔لال مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید اور ان کی والدہ کے قتل کیس کی سماعت اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے کی۔ مدعی کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ سابق صدر صحت اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت پیش نہیں ہو رہے۔ ڈاکٹروں کی اجازت اور سیکورٹی انتظامات مکمل ہونے پر پرویز مشرف عدالت پیش ہوجائیں گے۔ مقدمے کی سماعت پندرہ مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید پڑھیں

کرکٹر عمر اکمل کیخلاف کیس واپس لینے کیلئے پنجاب پولیس پر دباﺅ

لاہور: عمر اکمل تشدد کیس میں پنجاب حکومت اور لاہور پولیس میں ٹھن گئی ، حکومت نے پولیس سے استغاثہ واپس لینے کے لیے دباو ڈالنا شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق عمر اکمل تشدد کیس میں حکومت کی جانب سے لاہور پولیس پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ استغاثہ واپس لے لیں جس پر پولیس نے تاحال کوئی پیش رفت ظاہر نہیں کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمر اکمل نے نہ صرف پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھایا تھا بلکہ پولیس فورس کے خلاف بھی بیانات دیئے تھے ، لہٰذا پولیس کسی دباﺅ میں آ کر استغاثہ واپس نہیں لے گی۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ عمر اکمل قومی ہیرو ہیں ان کو ان کے کیے کی سزامل چکی ہے جبکہ عمر اکمل کو عدالت نے 11 مارچ کو طلب کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں