کراچی (پی پی آئی)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے آئندہ چند ماہ تک فلائٹ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے فنڈز کے حصول میں دشواری کے سبب کچھ طیاروں کو ’عارضی طور پر‘ گراؤنڈ کر دیا ہے، اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ادائیگیاں کیے جانے کے بعد وہ واپس اڑان بھریں گے۔واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پی آئی اے نے متعدد طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا تھا کیونکہ اسے اگلے چند مہینوں تک اپنے آپریشنز کو برقرار رکھنے کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا تھا۔پی پی آئی کے مطابق وزارت ہوا بازی نے گزشتہ ہفتے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو بتایا تھا کہ پی آئی اے اس وقت فنڈز کے شدید بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے پی آئی اے پر قرض دہندگان، طیارے لیز پر دینے والوں، ایندھن فراہم کرنے والوں، بیمہ کنندگان، بین الاقوامی اور ڈومیسٹک ایئرپورٹ آپریٹرز اور حتیٰ کہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔نتیجتاً پی آئی اے اپنے 13 لیز پر لیے گئے طیاروں میں سے 5 کو گراؤنڈ کرنے پر مجبور ہے اور خدشہ ہے کہ مزید 4 طیاروں کے حوالے سے بھی یہی فیصلہ کرنا پڑے گا۔
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
اشتہار
تازہ ترین
صدر نے دباؤ کے تحت خط لکھا،الیکشن وسط فروری میں دیکھ رہا ہوں، راجا ریاض
اسلام آباد (پی پی آئی)قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن وسط فروری میں دیکھ رہا ہوں۔پی پی آئی کے مطابقسابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی راجا ریاض نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی، جس میں الیکشن سے متعلق معاملات پر گفتگو کی گئی۔راجا ریاض نے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے دباؤ کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا، صدر نے خط میں الیکشن کی تاریخ مقرر نہیں کی، بلکہ رائے دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میں عام انتخابات وسط فروری میں دیکھ رہا ہوں، الیکشن کمیشن کو صاف شفاف انتخابات سے متلعق تجاویز دیں، چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں الیکشن کمیشن نے انتخابات سے متعلق تاحال تاریخ نہیں دی۔
کراچی مجرموں کے لیے جنت، 8 ماہ میں 60 ہزار وارداتیں،90 شہری بے دردی سے قتل
کراچی (پی پی آئی)شہر قائد جرائم پیشہ افراد اور سفاک قاتلوں کے لیے ایک جنت کا روپ دھار چکا ہے، گزشتہ 8 ماہ میں کراچی میں جرائم کی 60 ہزار وارداتیں ہوئیں، اور ڈکیتی مزاحمت پر 90 شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔پی پی آئی کے مطابق محکمہ پولیس کی کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی وارداتوں پر یکم جنوری سے 31 اگست تک کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیاہے کہ رواں سال اب تک 243 دنوں میں 60 ہزار کے قریب وارداتیں ہوئیں۔ یکم جنوری سے 31 اگست تک 18 ہزار 810 موبائل فون چھینے گئے، شہریوں کی 39 ہزار 215 موٹر سائیکلیں اور 1 ہزار 96 گاڑیاں چوری یا چھینی گئیں ، جب کہ 13 تاجروں کو بھتے کی پرچیاں دی گئیں اور 6 کو اغوا کیا گیا۔ یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی نمائندگی کیوں کی؟ پیپلز پارٹی کا سردارلطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری رپورٹ کے مطابق ا?ٹھ ماہ کے دوران 90 سے زائد شہری ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہوئے، اور سیکڑوں شہری ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہوئے، جب کہ مختلف دیگر واقعات میں 422 شہریوں کی جان گئی، غیرت کے نام پر بھی قتل کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے صرف 356 موبائل فون، 2 ہزار 285 کاریں اور موٹر سائیکلیں ریکور کیں۔
آج ڈالر اور مہنگائی کے ذمہ دار جنرل ر قمر جاوید باجوہ ہیں:کیپٹن صفدر
لاہور(پی پی آئی)ضلع کچہری لاہور میں پولیس اہلکاروں سے الجھنے اور انتشار انگیز تقاریر کیس کی سماعت کے بعدمسلم لیگ ن کے رہنماکیپٹن ر صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے 2018 کا الیکشن چوری کیا، آج ڈالر اور مہنگائی کا ذمہ دار جنرل ر قمر جاوید باجوہ ہے۔ پی پی آئی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کا جرم یہ تھا اس نے ایکسٹینشن دینے سے انکار کیا تھا، یہ ایکسٹینشن کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
تلاش کریں
خبریں
کراچی لیاری میں رہائشی عمارت کا چھجہ گیا ، جانی نقصان نہیں ہوا
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چاند کا عالمی دن منایا گیا

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘
