کراچی (پی پی آئی)بجلی کے بلوں میں اضافہ اورہوشربا مہنگائی کے باعث کاروبار تباہی کنارے متوسط طبقہ کا دلوالیہ نکل گیا، یومیہ اجرت پیشہ محنت کش پریشان ہیں جبکہ سفید پوش طبقہ پارٹ ٹائم ملازمت کے باوجود گھریلو اخراجات پورے نہیں کر پارہا، پی پی آئی کے مطابق پاکستان کا سب سے ا بڑا شہر کراچی جو معاشی حب کہلاتا تھا یہاں بجلی کے بلوں میں اضافہ اور مختلف ٹیکسز کی وجہ سے انڈسٹریز کے چھوٹے یونٹ بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری کے بحران میں مزید اضافہ ہواہے۔
پیباڈی کے چیئرمین اور سی ایاوگریگبوائس کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کہ وہ عالمی توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایپک ممالک سے سیکھے گئے اسباق استعمال کریں
پال جی ایلن نے ایبولا متاثرہ مغربی افریقہ میں فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی انسانی امداد کا اعلان کردیا
گوچین میں 14 واں چین (گوچین) بین الاقوامی روشنی میلہ اختتام پذیر
سینٹر فار گلوبل انٹرپرائز نے کتاب ری تھنک: اے پاتھ ٹو دی فیوچر کی عالمی تقسیم کا اعلان کردیاکردیا
انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے غیر لائسنس یافتہ معالجین اور طبی سیاحت کے حوالے سے مریضوں انتباہ جاری کردیا
لیکوئی-بکس نے تائیچو چین میں نیا کارخانہ کھول لیا
تازہ ترین خبریں
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ
(June 11, 2026)
پاکستان کے پہلے رومانوی ہیرو سنتوش کمار کی میراث کا جشن
(June 11, 2026)
پاسپورٹ کی گھر کی دہلیز تک فراہمی کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت
(June 10, 2026)
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 07, 2026
اشتہار
تازہ ترین
الخدمت ماڈل ولیج میں شجر کاری مہم، 200پودے لگائے گئے
جامشورو(پی پی آئی)الخدمت فاؤنڈیشن نے جامشورو الخدمت ماڈل ولیج میں 200سے زائدپودے لگائے۔پی پی آئی کے مطابق اس موقع پرالخدمت پاکستان کے نائب صدرڈاکٹرمشتاق احمد مانگٹ اور نثاراحمد سمیت سندھ ریجن کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔ڈاکٹرمشتاق احمد مانگٹ نے کہاکہ الخدمت “کلین اینڈ گرین پاکستان” کے عنوان سے ملک بھرمیں شجرکاری مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک ہزاروں درخت لگائے جاچکے ہیں۔انہوں نے الخدمت کے پروجیکٹس کا جائزہ بھی لیا۔
چاول کی کم قیمت کیخلاف بالائی اور زیریں سندھ میں کسان سراپا احتجاج
بدین(پی پی آئی)جیکب آباد اور بدین اضلاع میں جو دھان کی فصل والے اہم علاقے شمار ہوتے ہیں۔گولارچی اورگڑھی خیرو کے کسانوں نے چاول کے تاجروں کی جانب سے دھان کی قیمت میں کمی کے خلاف احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔سندھ اور بلوچستان کے درمیان سرحدی علاقے پر کسانوں کی جانب سے احتجاج کے باعث روڈ بلاک ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔احتجاج کرنے والے کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے دھان کی قیمت 4500 فی من مقرر کی ہے لیکن تاجر 2200 سے 2300 روپے فی من چاول خرید رہے ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ تاجروں کی ادا کردہ قیمت کسانوں کے لاگتی اخراجات کو بھی پورے نہیں کر سکتی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کانگریس کا اجلاس آج لاہور میں ہوگا
کراچی (پی پی آئی) سیکرٹری سمیت دیگر خالی نشستوں پر انتخاب کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کانگریس کا اجلاس 25 اکتوبر کو لاہور میں ہوگا۔کانگریس کااجلاس ہاکی فیڈریشن کیقائمقام سیکریٹری جنرل شاہد پرویزبھنڈارا نے طلب کیا ہے، اجلاس کی صدارت پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر کرینگے۔پی پی آئی کے مطابق کانگریس کے غیرمعمولی اجلاس میں نئے سیکریٹری کی تقرری سمیت ہاکی فیڈریشن میں عہدیداران کی تبدیلی اورخالی نشستوں پرممبران کا انتخاب ہوگا۔
تلاش کریں
خبریں
پیباڈی کے چیئرمین اور سی ایاوگریگبوائس کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کہ وہ عالمی توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایپک ممالک سے سیکھے گئے اسباق استعمال کریں
(November 10, 2014)
سینٹ لوئس، 10 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکئستان — پیباڈی انرجی (این وائی ایس ای: BTU) کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرگریگری ایچ بوائس نے آج توانائی افلاس سے نمٹنے اور عالمی ترقی کے لیے توانائی کی ضروریات کو طویل المیعاد انداز میں پورا کرنے کے لیے ایک پانچ نکاتی پالیسی پیش کی ، جو تین ایشیا-بحر الکاہل اقتصادی تعاون (APEC) بڑے ممالک سے سیکھے گئے قابل قدر اسباق کا حوالہ دیتی ہے۔ بیجنگ میں 2014ء ایپک سی ای او اجلاس میں سربراہان مملکت اور سی ای اوز کے وسیع البنیاد مذاکرات کے دوران بوائس نے کہا کہ چین، آسٹریلیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ تینوں نے توانائی افلاس کو کم کرنے، کم خرچ توانائی رسائی تخلیق کرنے اور اخراج کو بہتر بنانے کے لیے اہم پالیسی سبق پیش کیے ہیں۔ چین 1990ء سے 650 ملین افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے کوئلہ استعمال کرچکا ہے جس کے دوران کل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں 850 فیصد اضافہ ہوا اور کوئلے سے بننے والی بجلی کے استعمال آٹھ گنا بڑھا، اس پیشرفت کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے “ایک اقتصادی معجزہ” قرار دیا۔ آسٹریلیا نے کاربن محصول کو منسوخ کرنے کے فوری مقصد کے لیے گزشتہ سال نئی حکومت کا انتخاب کیا، اس محصول نے ہفتہ وار 100 ملین ڈالرز سے زیادہ کا اقتصادی بوجھ بنا رکھا تھا۔ ٹیکس کو موقوف کرنے سے ہر عام خاندان کو بجلی اخراجات میں 550 ڈالرز سالانہ کی بچت متوقع ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے کوئلے کی جدید ٹیکنالوجیز میں یکساں مرحلہ وار سرمایہ کاری کے ذریعے اخراج میں نمایاں کمی حاصل کی ہے اور آج دنیا میں ہوا کا بہترین معیار رکھنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ امریکہ کی بجلی میں کوئلے کا استعمال 1970ء سے اب تک 170 فیصد بڑھ چکا ہے، جس کے ساتھ جی ڈی پی دوگنا اور کلیدی اخراج کی شرح فی میگاواٹ گھنٹہ 90 فیصد تک کم ہوئی۔ بوائس نے کہا کہ “توانائی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی کو بہتر بنانا تمام عالمی رہنماؤں کا کام ہے۔ توانائی افلاس کو خاتمے تک پہنچانا – جو دنیا کا نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران ہے – جامع ترقی اور علاقائی ربط سازی کے لیے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک مرتبہ اس بحران کو حل کرنے کے بعد ہمارے دیگر اجتماعی مسائل کہیں زیادہ قابل تکمیل ہوں گے۔” ہر روز دنیا کی 7 ارب آبادی میں سے نصف سے زيادہ افراد اپنی زندگیوں میں مناسب بجلی کے بغیر اٹھتے ہیں۔ اربوں افراد کھانا پکانے اور گرمی حاصل کرنے کے لیے قدیم چولہوں پر بھروسہ کرتے ہیں، جس کی آگ سے نکلنے والا دھواں قبل از وقت بیماری اور زندگی کے خاتمے کا سبب ہے۔ توانائی افلاس سے ہونے والی گھریلو فضائی آلودگی عالمی سطح پر ہونے والی اموات کا چوتھا سب سے بڑا سبب ہے۔ رواں پانی، خوراک کو محفوظ کرنے، گھر میں روشنی کرنے اور اسے گرمی دینے جیسی روزمرہ کی سادہ ضروریات کافی توانائی نہ رکھنے والے خاندانوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، بوائس نے کہا۔ ان
پال جی ایلن نے ایبولا متاثرہ مغربی افریقہ میں فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی انسانی امداد کا اعلان کردیا
(November 7, 2014)
– امداد اہم بنیادی ضروریات اور لازمی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی؛ ایکشن اگینسٹ ہنگر، امریکیئرز اور ڈائریکٹ ریلیف ایلن کے 100 ملین ڈالرز کا حصہ وصول کریں گی سیاٹل، 6 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — انسان دوست شخصیت پال جی ایلن نے آج مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پھیلنے سے خطرے سے دوچار ہونے والوں کی بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے نئی گرانٹس کا اعلان کیا ہے۔ آج سے شروع ہونے والی یہ امداد امدادی انجمنوں کو ایبولا سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، رسد اور بچاؤ کٹ فراہم کرنا ممکن بنائے گی۔ گزشتہ مہینے جناب ایلن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایبولا کے خلاف جنگ کے لیے اپنی وابستگی کو کم از کم 100 ملین ڈالرز تک بڑھا رہے ہیں۔ اس تازہ ترین امداد کے ذریعے، جناب ایلن کے وعدہ کردہ 100 ملین ڈالرز کا نصف سے بھی زیادہ حصہ اب ایبولا سے بچاؤ، اسے روکنے، علاج اور نمٹنے سے وابستہ منصوبوں کے لیے وقف ہوچکا ہے۔ انسانی کوششوں سے جناب ایلن کے نئے عہد میں شامل ہیں: ایکشن اگینسٹ ہنگر کے لیے 1.9 ملین ڈالرز کی امداد، تاکہ وہ تنہا مریضوں کو خوراک فراہم کرے، پانی کی سبیلیں اور ہاتھ دھونے کے مقامات بنائے، ایبولا سے تحفظ کے بارے میں آگہی کو بہتر بنائے اور مقامی آبادی میں صحت کے کارکنوں کی تربیت کرے۔ اس امداد کے خصوصی نتائج میں سیرالیون میں خطرے سے دوچار برادریوں میں 20 پانی کی سبیلیں لگانا؛ لائبیریا میں 60 مقامی آبادیوں میں ہاتھ دھونے کی بیسنیں، صابن اور کلورین فراہم کرنا؛ اور لائیبیریا کی 80 برادریوں اور 60 اداروں میں معلومات کی فراہمی اور رابطے کی 1600 چیزیں پیش کرنا شامل ہیں۔ امریکیئرز کے لیے 1.35 کی گرانٹ کہ وہ لائبیریا کی گرانڈ باسا کاؤنٹی میں صحت کے مقامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کم وسائل کے حامل کلینکس کو اضافی رسد اور خدمات فراہم کرے۔ خاص طور پر یہ گرانٹ شدید متاثرہ علاقوں میں ذاتی تحفظ کے سامان کی فراہمی کی اجازت دے گی، ساتھ ساتھ مقامی کلینکس اور صحت کے مراکز کے درمیان بہتر رابطے اور صحت کے مقامی کارکنوں کے لیے ایبولا کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کو بھی ممکن بنائے گی۔ یہ کام گرانڈ باسا کے مرکز کو ایبولا علاج کے یونٹوں اور کاؤنٹی کے صحت کے نظام کو چار پڑوسی کاؤنٹیوں میں دہرانے اور اسی طریقے سے تکنیکی امداد فراہم کرنے کی اجازت دے گا۔ ڈائریکٹ ریلیف کے لیے 1 ملین ڈالرز کی امداد، تاکہ وہ ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی اقوام میں میں طبی رسد کی اپنی فراہمی کو جاری رکھ سکے اور میدان عمل میں نقل و حمل میں مدد دے۔ اب تک ڈائریکٹ ریلیف فضائی و بحری راستوں سے 140 ٹن کا طبی سامان فراہم کرچکی ہے۔ جناب ایلن کی مدد ادویات،بچاؤ رسد اور ذاتی تحفظ کے سامان کی فراہمی کے ذریعے میدان میں موجود طبی ماہرین کے تحفظ کو یقینی بنائے گی، صحت عامہ کا سامان بنانے والوں سے طبی رسدکی افریقہ تک آمد کوذرائع نقل و حمل
گوچین میں 14 واں چین (گوچین) بین الاقوامی روشنی میلہ اختتام پذیر
(November 7, 2014)
گوچین، چین، 6 نومبر 2014ء/ پی آرنیوزوائر/ایشیانیٹ پاکستان — 14 واں چین (گوچین) بین الاقوامی روشنی میلہ 26 اکتوبر کو گوچین کنونشن اینڈ ایگزی بیشن سینٹر میں اختتام کو پہنچا۔ 5 روزہ تقریب کا اہتمام چائنا ایسوسی ایشن آف لائٹنگ انڈسٹری نے چونگ شان اکنامک اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی بیورو اور گوچین ٹاؤن شپ کی عوامی حکومت چونگ شان کے تعاون اور یو بی ایم سینو ایکسپو کے انتظام کے ساتھ کیا تھا۔ خریداروں کے معیار کو بڑھانے کے لیے تقریب میں پہلی بار مقام پر اندراج کے لیے مہمانوں سے وصولی کی گئی۔ تقریب نے غیر ملکی خریداروں کے لیے لاؤنج، مقام پر ترجمے کی خدمات اور ہوائی اڈے، چونگ شان بندرگاہ اور مرکزی مقام کے درمیان مفت شٹل بس پیش کی۔ گوچین میلہ عالمی مارکیٹ کی تلاش اور نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی نمائش کے لیے پہلے ہی ایک درچے کی حیثیت اختیار کرچکاہے۔ 2014ء سے ایک سال میں دو میلے ہوچکے ہیں، ایک بہار اور دوسرا خزاں ایڈیشن، جو نمائش کرنے والوں اور اسٹورز کو منسلک کررہے ہیں۔ خزاں ایڈیشن نے نمائش کی وسعت میں اضافہ کیا ہے: ذیلی مقامات 3 سے بڑھ کر 4 ہوگئے؛ اور وسعت 250,000 سے 600,000 مربع میٹر تک پہنچ گئی۔ افتتاحی تقریب گوچین کنونشن اینڈ ایگزی بیشن سینٹر میں 22 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔ مقامی حکومت اور اداروں نے تقریب میں شرکت کی اور تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ ذیلی مقام اسٹار الائنس لائٹنگ اینڈ ایل ای ڈی ایکسپو سینٹر میں بھی اسی روز ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ 60 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 200,000 سے زاغد مہمانوں نے تقریب میں شرکت کی جن میں سے 56,828 مہمان مرکزی مقام پر جبکہ 138,566 ذیلی مقامات پر آئے۔ ماہر خریداروں کے قبل از وقت اندراج کل 25,607 رہے؛ جن میں سے 2,849 غیر ملکی خریداری تھے۔ ذیلی مقام، اسٹار الائنس لائٹنگ اینڈ ایل ای ڈی ایکسپو سینٹر، نے کئی مہمانوں اور خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ مہمانوں کے لیے قبل از وقت اندراج مفت تھا؛ منتظمین نے ایک نمائش کنندہ تحقیق کا نظام اور ماہر خریداروں کے لیے مفت شٹل بس بھی شروع کر رکھی تھی۔ غیر ملکی خریداروں نے ذرائع نقل و حمل، ہوٹل، رہائش، ویزا، ترجمہ اور لاؤنج ایریا جیسی ایک ہی مقام پر ملنے والی خدمات کا لطف اٹھایا۔ تقریب میں مفت وائی-فائی، خریداروں کا لاؤنج اور مرکزی مقام اور چار ذیلی مقامات کے درمیان شٹل بس بھی تھی۔ مزید برآں، میلے کے لیے آفیشل ویب سائٹ کے نئے ورژن میں تازہ ترین مقامی ہوٹل اندراج اور ٹریفک کی معلومات شامل کی گئی تھیں، جسے پیش کردہ سہولت کی وجہ سے مہمانوں کی جانب سے زبردست انداز میں سراہا گیا۔ 14 واں چین (گوچین) بین الاقوامی روشنی میلہ کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچا۔ 15 واں چین (گوچین) بین الاقوامی روشنی میلہ 18 سے 21 مارچ 2015ء تک گوچین کنونشن اینڈ ایگزی بیشن سینٹر میں منعقد ہوگا اور اس کی توجہ مقامی مارکیٹوں اور ایک ہی مقام پر روشنی کے تبادلے کا پلیٹ فارم تخلیق کرنے پر ہوگی۔
سینٹر فار گلوبل انٹرپرائز نے کتاب ری تھنک: اے پاتھ ٹو دی فیوچر کی عالمی تقسیم کا اعلان کردیاکردیا
(November 5, 2014)
نیو یارک،3 نومبر 2014ء/پی آر نیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — سینٹر فار گلوبل انٹرپرائز (سی جی ای) نے آج ری تھنک: اے پاتھ ٹو دی فیوچر کی عالمی تقسیم کا اعلان کیا ہے، جسے سابق سی ای او اور چیئرمین آئی بی ایم سام پالمیسانو کی جانب سے رواں سال اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔ سی جی ای ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو دنیا بھر میں کاروباری رہنماؤں کو ایک عالمی انٹیگریٹڈ انٹرپرائز (جی آئی ای) کی رہنمائی کے لیے بہترین انتظامی مشقوں میں مدد دے رہا ہے۔ ری-تھنک جی آئی ای کے عمل کے بنیادی اجزاء کا احاطہ کرتی ہے، مواقع جو ایک عالمی معیشت اپنے ساتھ لاتی ہے، اور آج کی کاروباری دنیا کو درپیش سخت چیلنجز۔ پالمیسانو کے آئی بی ایم کے تجربات اور دنیا کے سب سے بڑے عالمی انٹیگریشن طریقوں میں سے ایک کی نگرانی کرتے ہوئے سیکھے گئے اسباق کی حامل ہے، کتاب عالمگیریت اور شفافیت کے عہد میں معاصر انتظامی مشقوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے سیکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سی جی ای، کتاب میں پیش کردہ دو عالمی اداروں سیمیکس اور گیلی ہولڈنگز لمیٹڈ کے تعاون سے، اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک میں ری-تھنک کی 100,000 نقول تقسیم کررہا ہے۔ کتاب چار زبانوں میں دستیاب ہے۔ دنیا بھر کی معروف جامعات اور اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور اراکین کلیہ ایک اعزازی نقل حاصل کرکے ری-تھنک سے کچھ سیکھنے کا موقع حصل کریں گے۔ یہ شرکاء نئے سی جی ای گلوبل اسکالرز انیشی ایٹو: thecge.net/scholar/کے لیے بھی اہل ہوں گے جو ایک نیا تعلیمی عالمی منصوبہ ہے جس میں تعلیمی ماہرین دیگر فوائد کے ساتھ انوکھی سی جی ای تحقیقی اور مواد تک رسائی حاصل ، تقریبات، اور سی جی ای رہنماؤں اور رقائے کلیہ کے ساتھ انٹریکٹو سیشنز میں شرکت کرسکتے ہیں۔ ری-تھنک کی عالمی تقسیم سی جی ای کی معاصر کاروبار کی انتظامی سائنس، اور ادارے کے تبدیل ہوتے ہوئے ڈھانچے کے بارے میں آزاد، عالمی، عملی تدریس و تعلیم سے وابستگی کا حصہ ہے۔ سی جی ای عملی تحقیق (http://thecge.net/research) سے وابستہ ہے اور دنیا بھر میں باصلاحیت رہنماؤں کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔ ری-تھنک کی عالمی تقسیم اور سی جی ای اسکالرز پروگرام کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://thecge.net
انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے غیر لائسنس یافتہ معالجین اور طبی سیاحت کے حوالے سے مریضوں انتباہ جاری کردیا
(November 5, 2014)
– ادارہ عالمی قانونی سازی کی تائید اور اس میں تبدیلیوں کے لیے مریضوں کی حفاظت کے مطالبے کو فروغ دینے سے وابستہ نیو یارک، 4 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے ایسے تمام افراد کو انتباہ جاری کیا ہے جو کاسمیٹک سرجری کے لیے بورڈ کی اسناد کے بغیر کام کرنے والے غیر لائسنس یافتہ طبیبوں کے ہاتھوں کم خرچ طریقوں کے خواہشمند ہیں، خاص طور پر اپنے ملک سے باہر۔ برطانیہ کے دو شہریوں کی حالیہ اموات کہ جنہوں نے کاسمیٹک سرجری کے لیے بیرون ملک سفر کیا تھا اور غیر سند یافتہ طبیبوں سے علاج کروایا، آئی ایس اے پی ایس مریضوں کی بہتر حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں اور ان غیر ضروری اور افسوسناک اموات کو روکنے کے لیے قانونی سازی میں عالمی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ وڈیو – http://origin-qps.onstreammedia.com/origin/multivu_archive/PRNA/ENR/patient_safety.mp4 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20141103/156357LOGO آئی ایس اے پی ایس کے صدر سوسومو تاکایاناگی، ایم ڈی، نے کہا کہ “بیرون ملک کاسمیٹک سرجری کروانا بہت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ ہر دوسرے ملک میں اس کے معیارات مختلف ہو سکتے ہیں۔ مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بورڈ کے سند یافتہ پلاسٹک سرجنوں کو تلاش کریں، چاہے ان کی سرجری کسی بھی مقام پر ہو۔ مریض کی حفاظت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ آئی ایس اے پی ایس رکنیت بورڈ کے سند یافتہ پلاسٹک سرجنوں کے لیے مخصوص ہے جن کے لیے اپنی قومی پلاسٹک سرجری سوسائٹی کا رکن ہونا ضروری ہے۔” پانچ سالوں میں آئی ایس اے پی ایس نے مریضوں کی حفاظت کی علامت بن چکا ہے، چار عوامل پر مشتمل ایک ڈائمنڈ جو محفوظ جمالیاتی پلاسٹک سرجری میں مہارت کے لیے ضروری ہے: درست طریقے کا انتخاب مریض کے لیے خطرات کے عوامل سرجن کا انتخاب محفوظ سرجیکل تنصیب آئی ایس اے پی ایس پیشنٹ سیفٹی کمیٹی کے چیئر اور امریکن سوسائٹی فار ایستھیٹک پلاسٹک سرجری کے صدر مائیکل سی ایڈورڈز ایم ڈی نے کہا کہ ” مریض اس غلط فہمی کی وجہ سے اس لیے غیر لائسنس یافتہ معالجین کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ایم ڈی رکھنے والا ہر فرد کسی بھی آپریشن کو محفوظ انداز میں کرسکتا ہے۔ ملکوں کو سخت قوانین مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قابو پایا جا سکے کہ کون اور کیسا مقام پلاسٹک سرجری کے آپریشن کرسکتا ہے تاکہ آپریشن کی پیچیدگیوں اور اموات سے بچا جا سکے۔” صدر یورپین ایسوسی ایشن آف سوسائٹیز آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (ای اے ایس اے پی ایس)، نائب صدر برٹش ایسوسی ایشن آف پلاسٹک ری کنسٹرکٹو اینڈ ایستھیٹک پلاسٹک سرجنز اور سابق صدر برٹش ایسوسی ایشن آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجنز نائجل مرسر، ایم ڈی نے کہا کہ “کوئی بھی مریض جو جمالیاتی سرجری کے لیے طویل فاصلاتی سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اسے شعور ہونا چاہیے کہ وہ خود کو اضافی خطرے سے دوچار کررہے ہیں اور خطرے سے ہٹ کر وہ اپنے گھر کے قریب ہی ایک مستند سرجن تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر وہ دوسرے ملک تک سفر کرنے پر اصرار کریں
لیکوئی-بکس نے تائیچو چین میں نیا کارخانہ کھول لیا
(November 1, 2014)
رچمنڈ، ورجینیا، 31 اکتوبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ایشیانیٹ پاکستان — لچکدار مائع پیکیجنگ حل پیش کرنے میں دنیا کے رہنما ادارے لیکوئی-بکس نے تائیچو، چین میں اپنی نئی تنصیب کے شاندار افتتاح کا جشن ایک عوامی تقریب کے ذریعے منایا۔ تقریب لیکوئی-بکس سائٹ کے شاندار افتتاح کی علامت تھی جو ایشیائی مارکیٹوں میں صارفین کو مدد دے گی۔ محترمہ گو پنگ، ڈائریکٹر چیف تائیجو ہلنگ ڈسٹرکٹ نے تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہاکہ “ہمیں تہہ دل سے امید ہے کہ لیکوئی-بکس اپنی درجہ اول کی انتظامیہ، خدمات اور مصنوعات کے ذریعے ہیلنگ ضلع میں ایک مثالی ادارہ بنے گی اور اقتصادی تبدیلی اور ہمارے ضلع کی مکمل ترقی میں نئی حصے ڈالے گی۔” لیکوئی-بکس رواں سال جولائی سے تائیچو مقام پر اپنی پیداوار کو مستحکم کررہی ہے اور اب مکمل چالو حالت میں ہے۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20141030/155650 لیکوئی-بکس کے جنرل مینیجر برائے ایشیا بحر الکاہل ایرک چین نے کہا کہ “یہ ایک زبردست سنگ میل ہے جو ایشیا میں ہماری موجودگی کو مستحکم کرے گا اور ہمیں مقامی مواقع کا فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے صارفین کو خاطر خواہ اور زیادہ موثر انداز میں خدمات پیش کرنا ممکن بنائے گا۔ ” نئی لیکوئی-بکس تائیچو، چین تنصیب ابتدائی طور پر مشروبات اور خوراک اور دودھ کی مصنوعات کی مارکیٹوں کو خدمات فراہم کرے گی۔ نئی تنصیب مشرقی چین کے شہر تائیچو میں واقع ہے جو خام مال کی باآسانی درآمد اور مکمل مصنوعات کی صارفین تک فوری نقل و حمل کے لیے شنگھائی کی بندرگاہ، نانجنگ، اور جی2 ہائی-اسپیڈوے تک آسان رسائی رکھتی ہے۔ لیکوئی-بکس کے سی ای او کین سوانسن نے کہا کہ “چین میں اپنے ساخت گری قدموں کو پھیلانا ہمارے طویل المیعاد ترقیاتی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ اس کارخانے کا آغاز لیکوئی-بکس کو ایشیا میں مقامی طور پر اپنے صارفین کو مضبوط کرنے اور اپنے کاروبار کو عالمی سطح پر بڑھانے کے لیے کہیں بہتر مقام پر پہنچاتا ہے۔” لیکوئی-بکس کے بارے میں لیکوئی-بکس مائع اور نیم-مائع مصنوعات کی فوری، تازہ اور قیمت کے لحاظ سے موثر فراہمی کے لیے ماحول دوست پیکیجنگ حل پیش کرنے والا معروف ادارہ ہے۔ لیکوئی-بکس بیگ-ان-بکس لچکدار پیکیجنگ اور تھیلے تیار کرتا ہے تاکہ صنعتوں کی وسیع اقسام کو خدمات دے سکتے، جس میں دودھ کی مصنوعات مشروبات اور خوراک کی بڑی عالمی مارکیٹیں شامل ہیں۔ ایپلی کیشنز میں فاؤنٹین بیوریج سیرپ، ملک شیک مکس، کافی مشروبات، پمپ کیے جانے کے قابل مائع خوراک جیسا کہ عرقیات اور چٹنیاں، اور ساتھ ساتھ تیل اور رنگ جیسی ایسی چیزیں بھی جو خوراک نہیں ہیں، شامل ہیں۔ لیکوئی-بکس صنعت میں بھرنے کے تیز ترین آلات فراہم کرتا ہے، ساتھ ساتھ قابل استعمال پیکیجنگ، بشمول فلم سبسٹریٹس، لوازمات کے ساتھ تھیلے۔ لیکوئی-بکس اسٹرلنگ گروپ کی ایک پورٹ فولیو کمپنی ہے؛ جو پیکیجنگ اور دیگر صنعتی کاروباروں کو بہتر بنانے اور بڑھانے کا 30 سے زیادہ سالوں کا تجربہ رکھنے والا ہیوسٹن میں قائم درمیانی مارکیٹ کا نجی ایکوئٹی ادارہ ہے۔ رابطہ برائے ذرائع ابلاغ: پال کاسے ٹیلی فون: 1-804-433-3834+ ای میل: [email protected] 901 ای بایرڈ اسٹریٹ سویٹ 1105 رچمنڈ ورجینیا،