پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ن لیگ اور پی پی کا حکومتی بینچز میں بیٹھے اراکین سے رابطے کا فیصلہ

لاہور(پی پی آ ئی)پا کستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی جس میں پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ سمیت دیگر آپشنز پر غور کیا گیا، اس کے علاوہ حکومتی بینچز میں بیٹھے اراکین سے رابطے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ن لیگ کے وفد کی قیادت حمزہ شہباز اور پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت سید حسن مرتضٰی نے کی۔ ملاقات میں سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی کردار کو سراہا گیا۔ اس موقع پر پی پی رہنما سید حسن مرتضیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں انتظامی اور معاشی صورتحال حال پی ٹی آئی کی وجہ سے خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہے کہ بدحال صورتحال کی ذمہ داری انہی کے کندھے پر ڈال کر ان کو گھر بھیجا جائے، پرویز الہی کیسے اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں، جب ہماری حکومت تھی تو آصف زداری نے کہا تھا کہ جب اتحادی کہیں گے اسملبی تحلیل کر دیں گے، پرویز الٰہی نے ہم سے بے وفائی کر کے انہیں جوائن اس لیے کیا تھا کہ ہماری حکومت مدت پوری کرے گی، ملک میں اس وقت جیسی بھی جمہوریت ہے وہ آصف زداری کی وجہ سے ہے۔ دوسری جانب لیگی رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ ہم نے مشاورت کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے، مشاورتی سلسلے میں تمام آپشنز زیر غور آئے، پنجاب اسمبلی کے اراکین میں اضطراب پایا جاتا ہے اور اسمبلی کی تحلیل کے حق میں نہیں۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی مختلف گروپوں کی شکل اختیار کر چکی ہے، سب کا مؤقف ہے کہ اسمبلیوں کو آئینی مدت پوری کرنی چاہئے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے اور اسکا احترام کیا جائے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ اس حوالے سے بہت جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل کا معاملہ بھی موجود ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں اسپیکر والا کیس پچھلے کئی ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ حکومتی بینچز میں بیٹھے اراکین سے رابطے ہیں جنہیں مزید تیز کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔