پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خوبصورت نظموں کے خالق اسرارالحق مجازکی 67ویں برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی)”اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں“ جیسی لاتعداد خوبصورت نظموں کے خالق اسرارالحق مجاز 19 اکتوبر 1911ء کو قصبہ رودولی بارہ بنکی میں پیدا ہوئے اور 5 دسمبر 1955 کو وفات پائی۔ان کا حقیقی نام اسرارالحق اور مجاز تخلص اختیار کیا۔پی پی آئی کے مطابق تعلیم کے لیے مجاز لکھنؤ آئے اور یہاں سے ہائی اسکول پاس کیا۔ لکھنؤ سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ مجاز نے اپنے تخلص میں لکھنؤ جوڑ لیا اور مجاز لکھنوی کے نام سے جانے گئے۔مجازنے 1935 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا تھا۔1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ’آواز‘ کے پہلے مدیر مجازہی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت بمبئی انفارمیشن میں بھی کام کیا تھا اور پھر لکھنؤ آکر ’نیا ادب‘ اور ’پرچم‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے منسلک ہوئے تھے۔ ان کی سب سے بہترین نظم’آوارہ‘ ہے، جس کے چند بند 1953میں بنی فلم ’ٹھوکر‘ میں گلوکار طلعت محمود کی آواز میں کافی مشہور ہوئے:مجاز نے بچوں کے لیے بھی شعر لکھے۔۔پی پی آئی کے مطابق3دسمبر 1955کو لکھنؤ میں مجاز ایک مشاعر ے میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے دو دن بعد 5 دسمبر9551کو وہ انتقال کر گئے تھے۔2008میں ایک ڈاک ٹکٹ حکومت ِ ہند کی جانب سے مجاز کی یاد میں جاری ہوا تھا۔