سری نگر(پی پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظر بند سینئر رہنماوں میر واعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیرمیڈیاکے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے، جو گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے سری نگر میں گھر میں نظربند ہیں، ایک بیان میں کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں یکطرفہ تبدیلیاں لائی گئیں، انسانی حقوق بڑے پیمانے پرپامال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاریاں اور انہیں کالے قوانین کے تحت قید کرنا، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنا اور اختلاف رائے کا اظہار کرنے والے کسی بھی شخص کو نشانہ بنانا روز کا معمول ہیں۔
شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرکے لوگوں کو ان کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
