نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حریت پسندکشمیریوں کی رہائی کیلئے قوام متحدہ میں یادداشت جمع مقبوضہ وادی میں صورتحال سنگین، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری درجنوں حریت پسند مقدمہ چلائے بغیر تہاڑ جیل میں مقیدہیں: کشمیر کونسل

نیو یارک (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیرکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز اکبر، شاہد الاسلام، معراج الدین کلوال، پیرسیف اللہ، فاروق احمد ڈار، خرم پرویز، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، شریف سرتاج، ڈاکٹر حمید فیاض، مولانا عبدالمجید ڈار، مولانا مشتاق ویری، عبدالرشید داؤدی، مولانا عبدالواحد کشتواڑی، محمد یوسف میر،رفیق غنی، شوکت حکیم، محمد حیات بٹ، معراج الدین نندا، اسد اللہ پرے، نور محمد فیاض، محمد یوسف فلاحی، طارق احمد ڈار، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو اور غلام قادر بٹ سمیت درجنوں حریت پسندوں کو بھارت مقدمہ چلائے بغیر مقید رکھے ہوئے ہے جس پر کشمیر کونسل نے اقوام متحدہ میں یادداشت جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت پر پر دباؤ ڈالے جنہوں نے تحریک مزاحمت کے لیے گراں قدر قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ضمیر کے ان قیدیوں کے ناقابل تسخیر اور مضبوط عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو بھارت کے ظالمانہ اور غیر انسانی رویے کے باوجود آزادی کے اپنے مقدس مشن پر فخر محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی سمیت انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور ناانصافیاں جاری ہیں۔