اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈیمڈ انکم پر ٹیکس ادائیگی کی حتمی تاریخ 31 دسمبر تک مؤخر کی جائے:کراچی چیمبر تمام اسٹیک ہولڈرز کوئی راستہ تلاش کریں تاکہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے تاجر برادری سیکشن 7 E کو آئین کے آرٹیکل 142 کی شقوں کیخلاف سمجھتی کرتی ہے

کراچی (پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد طارق یوسف نے وزارت خزانہ سے درخواست کی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 کے سیکشن 7 ای (ڈیمڈ انکم پر ٹیکس) کے تحت ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2022 تک مؤخر کی جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز باہمی طور پر کوئی راستہ تلاش کریں اور یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے کیونکہ تاجر برادری فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے سیکشن 7 ای کو آئین کے آرٹیکل 142 کی شقوں کے برخلاف سمجھتی کرتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق کے سی سی آئی کے صدر نے اس حوالے سے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے اور معزز عدالت نے ایف بی آر کو کسی بھی قسم کے زبردستی اقدامات کرنے سے روک دیا ہے اور فی الحال سنوائی جاری ہے لہٰذا آخری تاریخ کو اس وقت تک ملتوی کیا جائے جب تک کہ دفعہ 7 ای کی آئینی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔اس ابہام کی وجہ سے بہت سے ٹیکس دہندگان اپنے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کر سکے لہٰذا تاجر برادری اور ایف بی آر کے درمیان مشاورت ہونی چاہیے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس مسئلے کا حل نکال سکیں۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بینک درآمدی کنسائنمنٹس کے لیے کوئی نئی ایل سی جاری نہیں کر رہے جبکہ بندرگاہوں پر درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں منظوری بھی زیر التوا ہے۔ ایماندار ٹیکس دہندگان اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تمام موجودہ ٹیکس قوانین کی پاسداری کی جائے تاہم لیکن سیکشن 7 ای کے تحت ایک اور ٹیکس کا نفاذ پہلے سے زیادہ بوجھ والے ٹیکس دہندگان کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا جن پر دوہرا ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔