پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن نہ کروانا توہین عدالت میں آتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ قانون سازوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ان سے پارلیمنٹ نہیں چلتی تو نہ بیٹھیں، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانا توہین عدالت میں آتا ہے، اتنا سا شہر ہے جس کا بیڑا غرق کر دیا ہے، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ حکومت کی طرف دیکھے، الیکشن کمیشن نے آزادانہ الیکشن کروانے ہوتے ہیں، سی ڈی اے کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ لوکل گورنمنٹ کے فنڈ استعمال کرے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو کروانے کی پی ٹی آئی اپیل پر جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے ہیں، یونین کونسلز کی تعداد بڑھنے سے الیکشن ملتوی کیے گئے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا گیا کہ ہائی کورٹ کا آرڈر تھا الیکشن کمیشن فریقین کو سن کر فیصلہ کرے، الیکشن کمیشن نے کیسے لکھ دیا کہ ہائی کورٹ نے ہدایت کی تھی الیکشن ملتوی کرنے کی؟ کیا اس صورت حال میں ہم انتخابات کروانے کا حکم دے سکتے ہیں؟ وفاقی حکومت کیسے انڈرٹیکنگ دے گی جو پہلے سپریم کورٹ بھی دے چکے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ یہ بات قانون سازوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ پارلیمنٹ سے معاملات ہینڈل نہیں ہوتے تو وہاں نہ بیٹھیں۔اسلام آبادہائی کورٹ نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق وفاقی حکومت کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔