آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی ٹی آئی ارکان کا استعفے منظور نہ کرنے کے لئے اسپیکرسے رابطہ 2درجن نے فون کر کے استعفے نہ دینے سے آگاہ کیا، اسپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد (پی پی آئی) اسپیکر قومی اسمبلی پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے وفد کے سامنے ان کے مستعفی ارکان کی پول کھول کر رکھ دی، اوربتایا کہ دو درجن ارکان نے فون کرکے استعفیٰ نہ دینے کی خواہش سے خود آگاہ کیا۔پی پی آئی کے مطابق قومی اسمبلی سے استعفوں کی منظوری حوالے سے اسد قیصر، قاسم سوری، عامرڈوگر اور امجد خان پر پی ٹی آئی کا وفد اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے چیمبرپہنچا اور اپنے ارکان کے استعفوں کی منظوری کا اصرار کیا۔تاہم دوسری جانب بتایا جاتا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے وفد کوبتایا کہ آپ کے دو ایم این ایز نے تو چھٹی کی درخواست دے رکھی ہے، اور 3 ارکان اپنی حاضری لگا کر تنخواہ لینے کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے وفد کو استعفے نہ دینے والے اراکین اور خفیہ رابطوں سے آگاہ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے دو درجن ارکان نے تو فون کرکے استعفیٰ نہ دینے کی خواہش سے خود آگاہ کیا ہے، جب کہ 6 ارکان تو استعفوں پر اپنے دستخطوں سے ہی انکاری ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایم این اے نواز الہٰی اور طالب نکئی نے چھٹی کی درخواست دے رکھی ہے، زبیدہ جلال، غلام بی بی بھروانہ،غلام محمد لالی تنخواہ کے لئے ایوان میں حاضری لگا چکے ہیں، اور حاضری کی بنیاد پر تنخواہ کا بھی دعویٰ کررکھا ہے۔ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ 22 ارکان نے اسپیکر کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ استعفی نہیں دینا چاہتے، اور 6 ارکان نے اجتماعی استعفوں پر اپنے دستخط کو ہی جعلی قرار دے دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر راجا پرویز اشرف کے انکشافات پر پی ٹی آئی وفد حیران ہوگیا اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، اور اسپیکر سے کہا کہ ہم عمران خان سے بات کر کے آپ کو بتائیں گے۔