سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پشاور پولیس لائنز دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 95 ہو گئی ہے: آئی جی خیبرپختونخوا
پشاور(پی پی آ ئی) پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی۔سی ٹی ڈی نے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لیں، پشاور پولیس لائن دھماکے کا واقعہ سکیورٹی غفلت قرار دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملے کے شواہد ملے ہیں، دھماکے کے بعد مسجد کے پلر گرنے سے چھت گری جس سے نقصان زیادہ ہوا، ملبہ ہٹانے کے بعد بارودی مواد کا پتہ چلے گا، پولیس لائن میں تمام اہلکاروں کا حاضری ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا۔ پولیس لائن میں انویسٹی گیشن اہلکاروں کا اجلاس جاری تھا، اجلاس کے بعد اہلکار مسجد گئے، زیادہ تر تفتیشی اہلکار دھماکے کا نشانہ بنے۔پولیس آفیسر نے کہا کہ فیملی کوارٹرز میں رہائش پذیر افراد کی تفصیلات طلب کر لی گئیں، مہمانوں کے کوائف کی معلومات کی چھان بین بھی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، پولیس لائن گیٹ، فیملی کوارٹرز سائیڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیجزپر تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جا نب آئی جی خیرپختونخوا معظم جاہ کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 95 ہو گئی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق’حملے میں 221 افراد زخمی ہوئے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’سی سی ٹی وی فوٹیج ایک روز کی نہیں بلکہ ایک ماہ کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ اتنا مواد یہاں کیسے پہنچا۔پشاور دھماکے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ بارودی مواد 10 سے 12 کلو تک ہو سکتا ہے۔دھماکے کے ساک کی وجہ سے پوری چھت نیچے آئی۔ ملبے تلے دبنے کے باعث ذ یادہ جانی نقصان ہوا۔آئی جی خیبرپختون خوا نے کہا کہ اس بات کی مکمل تحقیق کی جائے گی کہ خودکش حملہ آور کے سہولت کار کون تھے، وہ کس طرح یہاں پہنچا۔