مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کرنے کاکام جاری
نریندرمودی کی فسطائی حکومت بھارت میں مسلمانوں کی حکمرانی کی ہر نشانی مٹانے کے درپے
لکھنو/سری نگرمقبوضہ جموں و کشمیر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر اوربھارت میں مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کرنے کاکام تیزی سے جاری ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسلام آباد نامی شہر کا نام تبدیل کرنے پر ہندو توا مظاہرین ماضی میں مظاہرے کر چکے ہیں اور اب اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے لکھنو کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق مودی کی فسطائی حکومت بھارت میں مسلمانوں کی حکمرانی کی ہر نشانی مٹانے کے درپے ہے۔۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنگم لال گپتا نے لکھنو کا نام لکشمن نگرمیں تبدیل کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب بھجوایاہے۔مکتوب میں کہاگیاہے کہ لکھنو کاموجودہ نام 18ویں صدی کے نواب ِ اودھ نواب آصف الدولہ نے رکھا تھالہذا ریاستی حکومت شہر کا نام تبدیل کررہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کے بھگوان رام نے یہ شہر اپنے بھائی لکشمن کو دیا تھا اور اسے ماضی میں لکھن پور یا لکشمن پور کہاجاتا تھا۔
