مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اگرتنازعہ کشمیر ختم ہو چکا تو ہزاروں کشمیر ی جیلوں میں قیدکیوں ہیں:محبوبہ مفتی

سری نگر(پی پی آئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت سے سوال کرتے ہو ئے کہا کہ اگر کشمیر کا تنازعہ ختم ہوچکا ہے تو پھر ہزاروں کشمیری غیر قانونی طورپر بھارت کی جیلوں میں کیوں قید ہیں۔ کشمیر میڈیاکے مطابق محبوبہ مفتی نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے وہ سب کچھ بلڈوز کرنا چاہتی ہے، پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت،خفیہ ایجنسیوں اور آئین کو ہتھیار بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے،جس طرح جموں وکشمیر کے ساتھ سلوک کیا گیا،اسکی خصوصی حیثیت کومنسوخ کیا گیا اور مختلف کالے قوانین نافذ کیے گئے، اورکشمیریوں کوانکی زمینوں، ملازمتوں، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کولوٹا گیا وہ افسوسناک ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ’پہلے کشمیریوں کو دہشت گرد کہا جاتا تھا، پھر منشیات کے عادی اور اب انہیں اپنی ہی زمینوں پر قابض قابض قراردیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں تک کہ ہندوستان کے چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں خوفزدہ ہیں، بی جے پی کشمیریوں کی منفردشناخت کو مٹانا چاہتی ہے۔بی جی پی کا واحد مقصد ہے، وہ جموں و کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، اسی لیے کشمیریوں سے انکی زمینیں اور ملازمتیں چھینی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آبادی کے تناسب کوبگاڑنے کیلئے غیر کشمیری ہندوؤں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کیاجارہا ہے اور انہیں ووٹر لسٹوں میں بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ جموں وکشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔