اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

معاشی بحران، مہنگائی، عدم تحفظ، بیروزگاری پاکستان سے ذہانت کے انخلاکا سبب

220 ملین آبادی کا پانچواں حصہ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور
کراچی (پی پی آئی)شدید معاشی بحران، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، عدم تحفظ اور ملازمتوں کی کمی جیسے عوامل کے باعث پاکستانی یورپ پہنچنے کے لیے خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔لیبیا اور اٹلی کے جان لیوا حادثات نے ملک میں سنگین معاشی صورتحال کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے، جو بہت سے نوجوانوں کو بیرون ملک بہتر مستقبل کی تلاش میں ایسے خطرناک سفر کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔پی پی آئی کے مطابق بہت سے پاکستانیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے دن بدن بڑھتے ہوئے معاشی بحران کی وجہ سے لوگ خطرناک اور غیر قانونی طریقوں سے بھی بیرون ملک نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خوراک کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دگنی ہو کر 14.6 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ورلڈ بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں مزید نو ملین افراد ”غربت کی دلدل“ میں پھنس سکتے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی 220 ملین آبادی کا پانچواں حصہ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔