اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی ٹی آئی ممبران واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں تو استعفی کیوں دیا، پشاور ہائی کورٹ

پشاور (پی پی آئی)ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے استعفی کیوں دیا۔ پشاور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ارکان قومی اسمبلی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس اعجاز انورپر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسپیکر قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے۔جسٹس محمد ابراہیم خان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے استعفی کیوں دیا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ممبران نے حکومت گرانے کے خلاف احتجاجاً استعفی دیا تھا۔جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ان کو یہ بچوں کا کھیل لگتا ہے، یہ پہلے کہتے تھے استعفی منظور کیا جائے، جلوس لیکر اسپیکر کے پاس جاتے تھے اور اب یہ کہتے ہیں کہ ہم واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں۔پی ٹی آئی وکیل نے درخواست کی کہ 16 مارچ کو ضمنی الیکشن ہورہا ہے، عدالت ضمنی الیکشن روکنے کا حکم جاری کرے تاکہ 16 مارچ کے الیکشن کو ملتوی کیا جائے، تمام ہائیکورٹس نے ضمنی الیکشن روک دیئے ہیں۔جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ آپ تو جلدی اسمبلی جانا نہیں چاہتے، ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جس پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہے۔جسٹس اعجاز انور نے بتایا کہ مجھے الیکشن ٹریبیونل کا جج تعینات کیا گیا ہے، اس کیس کو کل کوئی اور بنچ سنے گا، ہم نوٹس کرتے ہیں، جلد دوبارہ سماعت کی تاریخ دیتے ہیں۔