اسلام آ باد(پی پی آ ئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عورت مارچ کی اجازت دینے کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ درخواست گزار نے عورت مارچ کی اجازت کا ڈی سی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔چیف جسٹس نے بدھ کو سماعت میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ ڈی سی کے اجازت نامہ کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 31 کی کھلی خلاف ورزی ہے، آئین پاکستان کی دفعہ دو کے مطابق ریاست کا مذہب اسلام ہے۔نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ نے استدلال کیا کہ اجازت نامہ دیتے ہوئے آرٹیکل 16 کو نظر انداز کیا گیا، فریڈم آف اسمبلی میں کچھ پابندیاں لگائی گئی ہے، اسلامی ریاست میں ایسا ممکن نہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ بینرز اور پلے کارڈ ماضی کی بات ہے، ابھی آپ کو کیا خدشہ ہے؟ کیا آئین پاکستان نے خواتین کو ’فریڈم آف اسمبلی‘ کا حق نہیں دیا۔
Next Post
لاہور میں جلسے، جلوس اور ریلی پر پابندی عائد پابندی کا اطلاق آئندہ 7 روز کیلئے ہوگا: نوٹی فکیشن
Wed Mar 8 , 2023
لاہور(پی پی آئی) محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں جلسے، جلوس اور ریلی پر پابندی عائد کردی۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق لاہور میں جلسے، جلوس اور ریلی پر پابندی کا نفاذ بدھ کے روز سے آئندہ 7 روز تک جاری رہے گی۔دوسری جانب پاکستان تحریک […]
