پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اسے عبرت کا نشان بننا چاہیے: وزیرقانون

ڈپٹی چیئرمین نیب کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو چیئرمین نیب کو حاصل ہوتے ہیں

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کسی نے حلف کی پاسداری نہیں اور اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کا عبرتناک انجام ہونا چاہئے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نیب آرڈینس میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔وزیر قانون کے مطابق ’چیئرمین نیب کے اختیار کے حوالے سے صرف ایک ترمیم ہوئی ہے۔ چیئرمین نیب کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین کو کچھ اختیارات دیئے گئے ہیں۔ترامیم کے تحت ڈپٹی چیئرمین نیب کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو چیئرمین نیب کو حاصل ہوتے ہیں۔ نیب کے دائرہ اختیار میں نہ آنیوالیمقدمات کومتعلقہ اداروں کو بھیجاجا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’نیب کو صرف میگا کرپشن کے کیسز کے لیے رکھا گیا تھا۔نیب میں مقدمے بنتے تھے لیکن ان کے فیصلے نہیں ہوتے تھے۔نیب کے اختیارات بہت ذیادہ تھے چھوٹے چھوٹے کیسز بنا دیئے جاتے۔انھوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کیس میں بھی اعلیٰ عدلیہ نے کہا نیب کو سیاسی انجئیرنگ کے لییاستعمال کیا گیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ نیب کی دفعہ 4 اور دفعہ 5 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ عمران خان نے نیب قوانین میں اپنی مرضی کیخلاف ترمیم کو چیلنج کیا۔ پی ٹی آئی نے نیب کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا، جھوٹے اور مرضی کے کیسز بنائے گئے، نیب میں مقدمے تو بنے لیکن فیصلے ہوتے نظر نہیں آئے،۔وزیرقانون کا کہنا تھا کہ نیب کے افسران کو کچھ معاملے کی تشریح میں مسائل آرہے تھے، جو مقدمات نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں تھے وہ متعلقہ ادارے کو بھیجے جائیں گے، چیئرمین نیب کے حوالے سے صرف ایک ترمیم ہوئی ہے، چیئرمین نیب کو کیس کو بند یا اسے آگے بڑھانے کا اختیار ہے، اگر کسی نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اسے عبرت کا نشان بننا چاہیے، 2000 کے بعد سے توشہ خانہ کاریکارڈ موجود ہے۔