کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی کی 11 اور سندھ کی مجموعی طور پر 93 نشستوں پر ضمنی الیکشن کا اعلان

امیدوار 22 مارچ تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے،18اپریل کو پولنگ ہوگی
کراچی (پی پی آئی)الیکشن کمیشن نے کراچی کی 11 بلدیاتی نشستوں اور سندھ کی مجموعی طور پر 93 نشستوں کا ضمنی الیکشن کا اعلان کردیا۔الیکشن کمیشن نے سندھ بھرمیں ضمنی بلدیاتی الیکشن کاشیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق سندھ بھر میں بلدیاتی الیکشن کے دونوں مراحل کی کل 93 یونین کونسلز پر انتخاب ہو گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی بلدیاتی الیکشن کیلئے18اپریل کو پولنگ ہوگی، امیدوار 22 مارچ تک بلدیاتی الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے۔کراچی میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں 11 نشستوں پر انتخابات نہیں ہوسکے تھے، تاہم اب الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی میں یوسی چیئرمین وائس چیئرمین کی 11 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوگا۔ اور صوبے بھر میں 93 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوگا۔واضح رہے کہ 9 مارچ کو امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کی 11 یوسیز میں بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، حافظ نعیم نے اپنی درخواست میں مؤقف پیش کیا کہ 11 نشستوں پرچیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات نہیں ہوئے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کیا گیا۔حافظ نعیم نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ ان 11 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال، دیگر وجوہات کی بنا پر انتخابات نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن ان نشستوں پر انتخابات سے گریزکررہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے عدالت سے استدعا کی کہ مئیر شپ کیعمل کی تکیمل کیلیے فوری انتخابات کروائے جائیں، اور الیکشن کمیشن کو فوری 11نشستوں پر انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیا، اور فریقین سے 10 دن میں جواب طلب کرلیا۔