جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کسی تیسری آپشن کیلئے حالات ساز گار نہ کریں، بیٹھ کر بات کریں: اعظم نذیر تارڑ ملک کے معاشی اور سیکورٹی مفاد میں بہتر ہے کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں

اسلام آ باد(پی پی آئی) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ملک کے معاشی اور سیکورٹی مفاد میں بہتر ہے کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ’ایک طرف ملک میں سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں اور معاشی بحران بھی درپیش ہے۔ دونوں انتخابات ایک ساتھ ہوں گے تو صرف ایک بیلٹ پیپر اضافی چھاپنا پڑتا ہے۔ پھر ملک میں الیکشن ماحول ہوتا ہے تو سکیورٹی کے لیے فورسز کو حفاظتی انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ تو کیا یہ ایک ساتھ کرنا فائدہ مند نہیں۔ سول سوسائٹی اور سیاستدان بھی اس پر بات کرتے ہیں کہ انتخابات بیک وقت ہونے میں ہی ملک کا بھلا ہے اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔ پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے جو معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے بیک وقت انتخاب ہی آپشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں الیکشن کروائے تو یہ خونی انتخابات ہوں گے۔ کسی تیسری آپشن کے لیے حالات ساز گار نہ کریں، بیٹھ کر بات کریں۔اس وقت گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے،رستے نکالیں لوگوں کے گریبان نہ پکڑیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں صوبے اور وفاق کے انتخابات اکھٹے ہوئے۔ پہلے تین دن کا فرق ہوتا تھا پھر یہ اعتراض ہوا کہ پہلے انتخاب کے نتائج دوسرے پر اثر انداز ہوتے تھے تو 97 سے دونوں انتخابات ایک ساتھ ھوتے ہے۔ جو کامیاب عمل ہے۔ آرٹیکل 218 کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے آئین آزاد شفاف ارو غیر جاندار ہوں گے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’سکیورٹی ایک بہت بڑا ایشو ہے جس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ ملک دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں۔ اس سارے ماحول میں الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تاریخ کو معطل کیا۔