بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اقوام متحدہ کوکشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول پر فوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے: ظفر قریشی

جنیوا (پی پی آئی)کشمیر کمپین گلوبل کے چیئرمین ظفر قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے بنیادی انسانی حق، حق خودارادیت کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 52ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظفر قریشی نے کہا کہ اگست 2019میں بھارت کی طر ف سے غیر قانونی طورپر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کاسلسلہ تیز کر ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی کے ارکان، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور وکلا سے مسلسل انٹیروگیشن،انہیں جبری طورپرقید اور حتی کہ حراست کے دوران انہیں قتل کردیاجاتا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے شرکاکو بتایاکہ مودی حکومت ٹیکس چوری، غیر ملکی فنڈنگ، مالی بے ضابطگیاں کے الزامات لگا کر اپنے ناقدین کے خلاف آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت کارروائی کر کے انکی آوازوں کودبانے کی کوشش کرر ہی ہے۔ظفر قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز، کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ اور محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دیگررہنما جھوٹے الزامات کے تحت جیلوں م میں قید ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی مقبوضہ علاقے میں کشمیری خواتین کی آبر و ریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے 10ہزارسے زائدکشمیری خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایاگیا ہے اور انہیں ابھی تک انصاف فراہم نہیں کیاگیا ہے۔۔ظفر قریشی نے کہا کہ آزادی، انصاف اور امن جو کہ ایک جمہوری معاشری کی بنیادی اقدار ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ناپید ہیں۔