سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

قومی آئینی کنونشن میں چیف جسٹس سمیت تمام ججوں

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) قومی اسمبلی قومی اسمبلی کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ پیر کے روز ہونے والا اجلاس، جس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شرکت کی تھی، قومی آئینی کنونشن تھا نہ کہ پارلیمانی اجلاس جسے آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا۔ترجمان کے مطابق قومی آئینی کنونشن قومی اسمبلی میں آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کا ایک حصہ تھا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد بشمول سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو مدعو کیا گیا تھا۔ترجمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت صوبائی عدالتوں کے جج صاحبان کو بھی اس تقریب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تینوں ستونوں یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس قومی سطح کے اجلاس میں مناسب نمائندگی دی گئی۔ قومی اسمبلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے متعلق خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ایوان میں بہت سی سیاسی باتیں بھی ہوئیں، میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں آج یہاں ہونے والی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، آج آئین کے گولڈن جوبلی تھی، میں صرف اس کے جشن میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔انھوں نے اپنی تقریر کے آخر میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی کہ ’میں ایک بار دوبارہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں ایوان میں ہونے والی سیاسی باتوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور میں اور میرا ادارہ آئین کا محافظ ہے۔یاد رہے کہ اس قومی آئینی کنونشن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شرکت اور تقریر کے بعد مختلف طبقوں کی طرف سے سوالات اٹھائے گئے تھے اور ان کی تقریر کے بعض حصے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ شیئر کیے تھے۔