جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پرویز الہٰی کے گھر پولیس گئی تو کہاگیا کہ چودھری شجاعت کے گھرپر ہیں:چودھری شجاعت

اسلام آباد (پی پی آئی)پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے ملکی سطح پر معاملات مزید خراب ہوں، پاکستان بہت پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، کچھ لوگ واقعات کو غلط رنگ دے کر پاکستان میں عجیب کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق ایک روز قبل اپنی رہائشگاہ پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ میں اس رات کو پیش آنے والے واقعے پر روشنی ڈالوں گا، پولیس پرویز الہٰی کے گھر گئی تو انہیں بتایا گیا کہ پرویز الہٰی چودھری شجاعت کے گھر ہیں، پولیس والے پرویز الہٰی کے گھر کو چھوڑ کر میرے گھر کی طرف دوڑ پڑے،چودھری شجاعت نے بتایا کہ پولیس میرے دروازے پر پہنچی تو دونوں بیٹے دروازے کے دوسری طرف تھے، پولیس والے آگے بڑھ رہے تھے تو میرے دونوں بیٹوں نے انہیں روکا۔ ق لیگ کے صدر نے مزید کہا کہ پولیس نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، دروازے کے شیشے ٹوٹ گئے مگر دروازہ نہ ٹوٹ سکا، میرے دونوں بیٹے اس صورتِ حال میں زخمی ہو گئے، چودھری سالک کے ہاتھ پر ٹانکے لگے، 2 گھنٹے کی کوشش کے بعد پولیس دروازے سے واپس گئی، پولیس والوں سے سوال کیا گیا کہ کس کیس میں یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے؟ پولیس نے بتایا کہ گجرات میں سڑکوں کے تعمیری ٹھیکوں میں اربوں روپے کمیشن کے الزامات ہیں، انٹرنیشنل فرم سے کمیشن کے طور پر اربوں روپے وصول کرنے کے بھی الزامات ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ پولیس نے بتایا کہ اس سے زیادہ تفصیلات ہمارے پاس نہیں، میرا یا میرے دونوں بیٹوں کا ایسے کسی معاملے سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، اس سارے معاملے پر جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ قابل قبول نہیں، جس طرح بکتر بند گاڑی کے ساتھ مین گیٹ توڑا گیا، میں سختی سے مذمت کرتا ہوں۔