سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں 4لاکھ سے زائد خواتین حمل کی سنگین پیچیدگیوں کا شکار،ہر گھنٹے میں 2 اموات

کراچی(پی پی آئی) پاکستان نیشنل فورم آف ویمن ہیلتھ کے صدر ڈاکٹر شیرشاہ سید نے کہا ہے کہ زچگی کی موت کے خلاف ہماری تمام تر کوششوں اور حمل کی سنگین پیچیدگیوں جیسے جینیٹل ٹریکٹ فسٹولا کے باوجود ہم اپنی کمیونٹیز سے ا ن خرابیوں کو ختم نہیں کر پا رہے ہیں۔ پاکستان میں حمل کی وجہ سے ہر گھنٹے میں دو خواتین کی موت ہو رہی ہے اور چار لاکھ سے زائد خواتین حمل کی سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہیں جیسے جینٹل ٹریک فسٹولا، دائمی شرونیی درد، بانجھ پن، بڑے پیمانے پر ہیمور ہیج، بچہ دانی کا نقصان، دائمی ذہنی دباؤ وغیرہ۔ نچلے حصے کے سیزرین سیکشن کے غیر ضروری بڑھتے ہوئے واقعات میں بھی مبتلا ہیں۔ خواتین اس لیے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ وہ غریب، ناخواندہ، دیہی علاقوں اور شہر کی کچی آبادیوں میں رہتی ہیں اور انہیں بنیادی اور ہنگامی زچگی کی دیکھ بھال تک رسائی نہیں ہے۔ وہ ایمبولینسوں، بسوں، گدھا اور اونٹ گاڑیوں میں سڑک پر ہسپتال، میٹرنٹی ہومز اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) جاتے ہوئے مر جاتی ہیں حالانکہ انھیں کم از کم ایسے ملک میں نہیں مرنا چاہیے جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ہو اور سینکڑوں یونیورسٹیاں اربوں روپے غلط سمت میں خرچ کر رہی ہوں۔ ڈاکٹر شیرشاہ سید نے کہا کہ پاکستان نیشنل فورم آن ویمنز ہیلتھ اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ ڈاکٹروں پر اکتفا کرنے والا ماں کی صحت کی دیکھ بھال کا موجودہ نظام ہماری خواتین کو موت اور حمل کی پیچیدگیوں سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزارت صحت کو زچگی کی صحت کی دیکھ بھال کے موجودہ نظام پر فوری طور پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ انہیں موت اور تکلیف سے بچایا جا سکے۔ ہم اس پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے درج ذیل فوری اقدامات کی تجویز کرتے ہیں: دیہات اور شہر کی کچی آبادیوں میں کام کرنے کے لیے ہنر مند اور قابل مڈوائفز کی فوج تیار کرنے کا پانچ اور دس سالہ منصوبہ تشکیل دیا جائے۔ پاکستان میں 85ہزار سے زائد دیہات ہیں ہمیں زچگی کی بنیادی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے ہر گاؤں میں کم از کم دو قابل مڈوائفز مقرر کرنے کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ ہر بنیادی صحت یونٹ اور رورل ہیلتھ سینٹر میں مڈوائفری سروس چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر دستیاب ہونی چاہیے۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل ہنگامی بنیادوں پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں میں مڈوائفری کی تعلیم و تربیت کو فروغ دے اسی طرح کونسل کو زچگی کی دیکھ بھال میں چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تمام موجودہ مڈوائفز کی قابلیت کی بنیاد پر تربیت کو بھی فروغ دینا چاہیے اور ہنگامی حالات میں ان سے نمٹنے کے قابل ہونا چاہیے۔ PNMC کو مڈوائفری ٹیوٹرز کی بڑے پیمانے پر تربیت کا منصوبہ بھی بنانا چاہیے تاکہ نوجوان مڈوائفری طلبا کو تربیت دی جا سکے اور انہیں قابل، پر اعتماد اور ہنر مند بنایا جا سکے تاکہ زچگی کی موت کو روکا جا سکے اور پاکستان میں سیزرین سیکشن کی شرح کو کم کیا جا سکے۔ڈاکٹر شیرشاہ سید نے کہا کہ پاکستان نیشنل فورم آن ویمنز کا مطالبہ ہے کہ مڈوائفز کے لیے قابل احترام کیرئیر کا نہ صرف اسٹرکچر کی موجودگی ضروری ہے بلکہ اسے ماؤ ں کو اموات سے بچانے کیلئے تمام سہولتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔