عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں صحت کی ناکافی سہولتوں کے باعث دورانِ زچگی 3ہزار خواتین سالانہ ہلاک

کراچی (پی پی آئی)سندھ کی موجودہ 56.3ملین آبادی 2.41فیصداوسط سالانہ شرح نمو کیساتھ 2050تک95.7ملین ہوجائے گی۔سندھ میں صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے دورانِ زچگی 3000ہزار خواتین کی سالانہ اموات ہوتی ہیں۔ اگر مانع حمل کی ادویات کا استعمال موجودہ 31فیصد سے بڑھ کر 40فیصد تک ہوجائے تو ان اموات میں 33فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔سندھ میں زچگی کی شرح 3.6فیصد ہے اور سندھ میں ایک ہزار بچوں میں سے 60بچے ایک سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ 5سال کی عمر سے کم 50فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سندھ میں 5سے 16سال کی 51فیصد لڑکیاں اور 39فیصد لڑکے تعلیم سے محروم ہیں۔شرکانے کہاکہ فیملی پلاننگ، تعلیم اور خواتین کو بااختیار کیے بغیر بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوں گی۔ ماہرین نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو کراچی میں وزارتِ ترقی و منصوبہ بندی اور اقوام ِمتحدہ پاپولیشن فنڈ(UNFPA)کے اشتراک سے منعقدہ رضاکارانہ قومی سروے اور آبادی اور ترقی پر بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں مشاورتی ورکشاپ کے دوران کیا۔