شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی بجٹ کا خسارہ 1 ٹریلین روپے ہو جانے کاخدشہ، وفاقی وصولیاں ناکافی

اسلام آباد (پی پی آئی) بجٹ خسارہ سے متعلق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک ٹریلین روپے ہو سکتاہے۔ پی پی آئی کے مطابق آ ئندہ مالی سال 2023-24کے وفاقی بجٹ میں قرض اتارنے کی مد میں وفاقی وصولیاں ناکافی ہوں گی جس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ 1 ٹریلین روپے ہو جانے کا اندیشہ ہے۔پاکستان کے اخراجات3 ’ڈی‘ ڈیبٹ سرولنگ (قرضوں کی ادائیگی)، ڈیفنس (دفاع) اور ڈیولپمنٹ (ترقیات)کے اطراف گردش کریں گے گو کہ بجٹ اسٹرٹیجی پیپر (بی ایس پی) جسے پاکستان فنانشل مینجمنٹ (پی ایف ایم) ایکٹ کے تحت ہر مالی سال کے لیے 15 اپریل تک پارلیمنٹ سے منظور ہو جانا چاہیے لیکن یہ ابھی تک کابینہ سے منظوری حاصل نہیں کر سکا ہے۔تاہم اگر ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں آئندہ بجٹ میں ہدف کے مطابق 9.2 ٹریلین روپے ہو جاتی ہیں تو این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے کی بنیاد پر 57.5 فیصد صوبوں کو فراہم کیا جا سکے گا جس سے مجموعی وفاقی وصولیاں 4 ٹریلین اور صوبوں کا حصہ 5.2 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔اس طرح آئندہ بجٹ سے مجموعی ریونیو کا حجم 6.5 ٹریلین روپے کے قریب ہو جائے گا۔