شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

لاہور(پی پی آ ئی) نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث مفرور شرپسندوں کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت 9 مئی واقعات کے حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں شرپسندوں کے خلاف پراسیکیوشن کے عمل پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شرپسندوں کی گرفتاریوں، تفتیش اور مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث مزید 1163 شرپسندوں کا ڈیٹا بیس مل گیا ہے، سائنٹیفک انداز سے شرپسندوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرپسندوں کے خلاف پراسیکیوشن کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، وزیراعلیٰ محسن نقوی نے پولیس اورپراسیکیوشن کو بہترین کوآرڈینیشن کے ساتھ کیسوں کی پیروی کی ہدایت کی۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تمام ضروری وسائل بروئے کار لا کرمفرور شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، آخری شرپسند کی گرفتاری تک ان کا تعاقب جاری رکھا جائے، کسی شرپسند سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، شرپسندوں اور انہیں اکسانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مزید کہا ہے کہ کسی گنہگار کو چھوڑنا نہیں اور بے گناہ کو پکڑنا نہیں۔

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات کیلئے دائر درخواست کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست پر پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات کی سماعت کی، سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق نے ریماکس میں کہا اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لنک کیا گیا؟ میں کہنا نہیں چاہتا مگر یہ مجھے کچھ اور ہی لگتا ہے،اس وقت بینچ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دے دیا تھا،آپ نے اس بینچ کے سامنے کیوں نہیں کہا اس کو ساتھ سنیں، آپ نے7 سال میں کسی ادارے کو درخواست کی کہ تحقیقات کی جائیں؟ آپ نے اپنی ذمہ داری کہاں پوری کی؟جسٹس سردار طارق کا جماعت اسلامی کے وکیل سے مکالمہ کہا نیب یا کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حکم دے دیں، آپ نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی، سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟436 بندوں کو نوٹس دئیے بغیر ان کیخلاف کارروائی کا حکم کیسے دیں؟ان 436 بندوں میں کارروباری لوگ بھی ہونگے کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟۔جسٹس سردار طارق نے کہا آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گی، 436 بندوں کیخلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کیخلاف ہوگا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔