شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سمندری طوفان کا سندھ اور بلوچستان سے ٹکرانے کا امکان، ساحلوں پر دفعہ 144 نافذ

کرا چی(پی پی آ ئی)سمندری طوفان کا سندھ اور بلوچستان سے ٹکرانے کا امکان ہے جب کہ 13 سے 14 جون کو ساحلی پٹی پر گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی سمت تبدیل ہو کر شمال مشرق ہوگئی، طوفان کے گرد 120 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سسٹم کے گرد 25 سے 30 فٹ بلند لہریں اٹھ رہی ہیں جب کہ طوفان کے رخ کا اندازہ لگانے میں مزید 36 سے 48 گھنٹے لگیں گے۔اس کے علاوہ طوفان عمان، بھارتی ریاست گجرات، سندھ اور بلوچستان کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے، سمندر میں طغیانی اور معمول سے بلند لہریں اٹھ سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق 13 یا 14 جون کو سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے ماہیگیروں کو 12 جون تک سمندر میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔دوسری جانب سمندری طوفان بیپار جوئے کے پیش نظر کمشنر کراچی نے سمندر میں جانے پر دفعہ 144 نافذ کردی۔نوٹفکیشن کے مطابق سمندر میں نہانے اور شکار کرنے پر پابندی ہوگی، سمندر میں موجود ماہی گیروں کو بھی خطرہ ہے، پابندی 11 جون تک عائد رہے گی۔