شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ای او بی آئی کے دفاتر میں پنشنرز ہیلپ ڈیسک قائم کی جائے:پنشنرز فورم

کراچی (پی پی آئی) ای او بی آئی پنشنرز کی نمائندہ تنظیم ای او بی آئی پنشنرز فورم نے ملک بھر میں موجود انسانی حقوق کی تنظئیموں، اداروں کے نام کھلے خط میں نشاندہی کی ہے کہ ای او بی آئی پنشنرز بدترین مہنگائی کا ماہانہ ساڑھے آٹھ ہزار روپے میں مقابلہ کر رہے تھے جسے بڑھا کر دس ہزار کیا گیا ہے جو ناکافی ہے۔ ای او بی آئی کے موجودہ بورڈ آف ٹرسٹیز میں ورکرز کے نمائندے خموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور مراعات سمیٹ رہے ہیں حالانکہ اسبورڈ کی مدت کار ختم ہوچکی ہے لیکن نیا بورڈ ہنوز تشکیل نہیں دیا جاسکاہے،جس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ای او بی آئی کے لاکھوں پنشنرز محسوس کرتے ہیں کہ ان کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوپارہی۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی پنشنرز فورم نے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت میچنگ گرانٹ برسوں سے جمع نہیں کرارہی اس کے حصول کے لئے وفاقی حکومت سے رابطہ اور کوششیں تیز کی جائیں نیزلاکھوں ادارے ایسے ہیں جو ابھی تک ای او بی آئی سے رجسٹرڈ نہیں حالانکہ وہاں درجنوں ملازم کام کررہے ہیں۔ پیٹرول پمپ، اسکول، چھوٹے اسپتال، کاروباری و تجارتی ادارے اس میں شامل ہیں جن کے ملازموں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے۔ ای او بی آئی پنشنرز فورم نے توجہ دلائی کہ بسااوقات ای او بی آئی دفاتر میں عملے کے بعض ارکان پنشنرز کو پریشان کرتے ہیں یا طریق کار سے عدم واقفیت کے باعث پنشنرز کو مشکل پیش آتی ہے اس لئے ہر آفس میں ہیلپ ڈیسک قائم کی جائے اور کم از کم صوبائی سطح پر فوکل پرسن تعینات کرکے اس کا فون نمبر اور آفس ایڈریس مشتہر کیا جائے۔اسی طرح ای او بی آئی پنشنرز فورم کی تجویز ہے کہ بینک الفلاح کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے کہ مہینہ کے ابتدائی ایام میں خراب اے ٹی ایمز،کیش نہ ہونے اور بایومیٹرک کے ضمن میں مشکلات کے ازالہ کے لئے طریق کار وضع کیا جائے کیونکہ جب ای او بی آئی یکم تاریخ سے قبل فنڈز ٹرانسفر کردیتا ہے تو بینک کی جانب سے اکاؤنٹس میں منتقلی 2 سے 3 تاریخ تک کیوں ہوتی ہے۔خط کی نقول صدر مملکت،وزیر اعظم، چئیر پرسن،ای اہ بی آئی،وفاقی سیکریٹری وزارت افرادی قوت،وفاقی محتسب اور دیگر کو بھی بھیجی گئی ہیں